Sunday, 7 May 2017

us des mey aj islam azad ha

اُس ديس میں آج اِسلام آزاد ہے...
----------------------------------
وہ ملک جہاں عشروں تک قرآن مجید کو عربی میں لکھنا ممنوع تھا۔
نہ عورتیں سر اور چہرہ ڈھانپ سکتی تھیں اور نہ مردوں کو ٹوپی پہننے کی اجازت تھی۔
جہاں مساجد میں اذان پر پابندی تھی۔
ڈاڑھی رکھنا ایسا جرم تھا جس پر موت کی سزا بھی ہو سکتی تھی۔
اسلام کا نام لینا، اپنی اسلامی نسبت یا شاندار اسلامی ماضی کی کوئی یادگار رکھنا،کوئی ایسا کام کرنا جو اسلامیت کے زمرے میں آتا ہو قابل دست اندازی جرم تھا۔
٭…٭…٭
اُس ملک میں آج اسلام آزاد ہے۔ مسلمان سرفراز ہیں۔ ہر طرف سکارف ہیں اور داڑھیاں۔
اسلامی احکام رواج پذیر اور سیکولر ازم زوال پذیر ہے۔ معاشرہ اپنے حسین ماضی کی طرف لوٹ رہا ہے۔ خلافت کی یادگاریں تعمیر ہو رہی ہیں۔ آثار محفوظ کیے جا رہے ہیں۔ علماء و مشائخ معزز ہیں اور عوام کا اسلام کی طرف رجوع کا جذبہ دیدنی ہے۔
٭…٭…٭
وہاں آج ایسا شخص حکمران ہے جو پُرسوز لہجے میں قرآن پڑھتا ہے اور اپنے ملک میں ’’بلبل قرآن ‘‘ کے لقب سے معروف ہے۔
جو پانچ وقت کا نمازی ہے۔
جو عوامی ذہن اور عوامی طرز کا حامل ہے۔
جو امین بھی ہے اور صادق بھی۔
جو ’’ ملت ‘‘ کا علمبردار ہے، ’’ امت ‘‘ کا خیر خواہ ہے، ’’اجتماعیت‘‘ کا پیکر ہے…
جس کا دل اُمت کے ساتھ دھڑکتا ہے۔ جو ہر مظلوم مسلمان کا حامی اور عملی مددگار ہے۔ جو برما سے شام تک ہر حاجت مند مسلمان کا کفیل ہے۔ جو اسرائیل کا مخالف ہے اور فلسطینیوں کے دلوں کی دھڑکن ہے۔
جس نے ہر مشکل گھڑی میں ’’امت‘‘ کے سر پر ہاتھ رکھا اور عملی اقدامات کئے۔
جس نے خلافت اسلامیہ عثمانیہ کی یادگاروں کو زندہ کیا ہے۔
جو علماء و مشائخ کا قدردان ہے اور جھک کر بزرگوں کے ہاتھ چومتا ہے۔
جو غیرتمند ہے اور ہر عالمی فورم پر اسلامی غیرت کا مظاہرہ کرتا ہے۔
جو زبردست سیاستدان ہے اور اس نے اسلامی فکر پر استوار اپنی سیاست کے ذریعے اپنے ہر مخالف کو جھکنے پر مجبور کیا ہے۔ جس نے یورپی اور عالمی سیاست کے شاطر چالبازوں کھلاڑیوں کو ہر میدان میں شکست دی ہے۔
جو سیکولر ازم یعنی بے دینی کی لعنت میں سِر تا پا گھری ہوئی قوم کو سیدھے راستے پر لانے کی انتھک محنت کر رہا ہے اور بہت بڑی حد تک تبدیلی لا چکا ہے۔
الحمد للہ! ’’رجب طیب اردگان ‘‘ اور ان کی جماعت ترکی کے عام انتخابات میں کامیاب ہو چکے ہیں۔ اس انتخاب میں ان کا مقابلہ صرف ترکی کے لادین عناصر اور قوم پرست کردوں سے نہیں، پورے یورپ اور اسلام کے روپ میں مجوسیت کے ان پیروکاروں سے تھا جو ایک خاص ایجنڈے کے تحت پورے مشرق وسطی کو اپنے رنگ میں رنگنا چاہتے ہیں اور اکیلا ترکی ان کے راستے میں رکاوٹ بنا ہوا ہے۔
ان کا مقابلہ امریکا سے بھی تھا جو مشرق و سطی میں چل رہی اس مسلح مہم کا سرپرست اعلیٰ ہے اور ترکی اس کے عزائم کی راہ میں رکاوٹ بنا ہوا ہے۔
ان کا مقابلہ اسرائیل سے بھی تھا جو فلسطین پر آخری وار کرنا چاہتا ہے لیکن پورے خطے میں اگر اسے خوف ہے تو صرف اردگان کے ترکی سے ہے۔ وہ اردگان جو فلسطین کے حق میں صرف بولتا نہیں شیر کی طرح دھاڑتا ہے۔ جو فلسطینیوں کی صرف زبانی نہیں عملی مدد کرتا ہے۔ فلسطینی جسے صرف اپنا بھائی نہیں اپنا مخلص و مشفق سرپرست سمجھتے ہیں۔
اور اردگان ان سب کے مقابل سرفراز ہوئے، کامیاب رہے اور فتح حاصل کی۔
آج شام و فلسطین سے لے کر پوری دنیا میں ان کی کامیابی پر اہل ایمان خوشی سے جشن منا رہے ہیں۔
اظہار تشکر کر رہے ہیں جبکہ نفاق زدہ مسلمان اور اہل کفر پر سکوت طاری ہے۔
اللہ تعالیٰ اردگان کی حکومت کو استحکام نصیب فرمائیں، خیر و بھلائی کی طرف ان کی رہنمائی فرمائیں اور امت کے حق میں اسے انفع بنائے ، آمین

No comments:

Post a Comment

Hazrat Umar (R.A)

حضرت عمر فاروق رضی اللّٰہ کے دور میں ایک بدو آپ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے ملنے مدینے کو چلا، جب مدینے کے پاس پہنچا تو ادھی رات کا وقت ہو چ...