فرقہ واریت اور دہشت گردی کی آگ.....
سن 80 کی دہائی سے مسلمانوں میں عمومی طور پر دین کا رجحان بہت بڑھ گیا ہے جو یقیناً بڑی اچھی بات ہے.. تاہم اس رجحان کے باوجود عمومی طور پر وہ مسلمان نظر نہیں آتے جس کی جھلک سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم میں نظر آتی ہے یا پھر جس کا ذکر قرآن مجید کے بیانات میں اللہ کے مطلوب انسان کے طور پر ملتا ہے..
بدقسمتی سے اس کے برعکس جس قسم کے مسلمان نظر آتے ہیں وہ زیادہ تر فرقہ واریت اور تعصبات کے اسیر ہوتے ہیں.. ایسے "دیندار" مرو و عورت سے آپ گفتگو کرلیجیے ، تھوڑی ہی دیر میں معلوم ہوجائے گا کہ صحیح دین سے اس کی مراد اس کا خاص فرقہ ہے.. وہ اپنے فرقے کے علاوہ ہر ایک کو گمراہ سمجھتا ہے.. اس کا فرقہ اور نظریات عین حق اور باقی سب باطل ہیں..
یہ دینداری کسی تحقیق اور جستجو پر مبنی نہیں بلکہ سنی سنائی باتوں پر قائم ہوتی ہے.. ایسا شخص جس عقیدے کے حامل فرقے میں پیدا ہوگیا , جس گروہ میں پہلی دفعہ بیٹھ گیا ، جس عالم سے پہلے متاثر ہوگیا یا جہاں سے اسے اپنے جذبات و خواہشات کے مطابق دین مل گیا ، وہ اس کے لیے حق بن جاتا ہے.. اب جو شامت کا مارا اس کے خاص نظریات اور تعصبات سے چاہے کسی دلیل کی بنیاد پر اختلاف کردے وہ اس کا نشانہ بن جاتا ہے.. اس کے خلاف مہم چلائی جاتی ہے.. اسے بدنام کیا جاتا ہے..
ایسا کرنے والے متعصب لوگ یہ بھول جاتے ہیں کہ یہی طرز عمل کفارمکہ نے سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف اختیار کیا تھا.. یہی وہ رویہ ہے جس کی تنقید سے قرآن کریم بھرا پڑا ہے.. یہی وہ رویہ ہے جس پر روز قیامت جہنم کی آگ کی وعید کی گئی ہے اور یہی رویہ ہے جو آج ہمارے معاشرے کو فرقہ واریت اور دہشت گردی کی آگ میں جلا رہا ہے...
No comments:
Post a Comment