Sunday, 4 June 2017

PhotoGraphy

فوٹوگرافی جسے اداکارہ میرا کی زبان میں فارٹوگرافی کہتے ہیں ایک فن ہے اور یہ فنون لطیفہ کی ساری اقسام میں سے سب سے آسان فن ہے اگر اس کو موازنہ کیا جائے لکھنے ، شاعری ، سنگیت ، سنگ تراشی یا کیلیگرافی سے ۔۔۔ کئی لوگ اس میں کمال رکھتے ہیں اور کئی کمال حاصل کرنے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں ۔۔۔ آج کا دور جس میں ہم زندہ ہیں فنکاروں کا دور نہیں رہا معذرت کے ساتھ ۔۔۔ ہمارے سے پہلے کی جنزیشن جن کا شاید اکثر لوگ نام بھی نہیں جانتے (ان میں کچھ زندہ ہیں کچھ نہیں رہے) نے جو کام اس شعبہ میں کیا ہے اس کو دیکھیں تو انسان دیکھتا ہی رہ جاتا ہے ۔۔۔ تب فلم ہوتی تھی ، ٹرانسپرنسی یا سلائیڈ کا دور تھا جس میں مینیپولیشن کرنا محال تھا ۔۔۔۔ ایم آر اویسی ، جاوید قاضی ، آفتاب احمد ، ایف ای چوھدری ، سمیع الرحمان ، نئیر رضا سمیت کئی فنکاروں نے عالمی سطح پر اپنے فن کو منوایا ۔۔۔
اس کے بعد کے دور میں ندیم خاور ، عمیر غنی ، رزاق وینس ، غلام رسول سمیت کئی لوگوں نے اچھا کام کیا اب بھی کر رہے ہیں ۔۔۔ گلریز غوری کو اس بات کا کریڈٹ بھی ضرور جاتا ہے کہ ان کے چھپے پوسٹ کارڈز نے پاکستانیوں کو شمال سے متعارف کروایا ۔۔۔
آج ، جب فوٹوگرافی ڈیجیٹل ہونے کے ساتھ ساتھ مینی پولیٹڈ بھی ہوتی جا رہی ہے اس اِرا میں زیادہ تر فوٹوگرافروں کی ترجیحات میں صرف شہرت حاصل کرنا شامل ہے ، چاہے وہ کیسے بھی ملے ۔۔۔ 500px اور اس سے ملتے جلتے دوسرے فورمز نے پوری دنیا سے کمپوزٹ ، مینی پولیٹڈ ، بلینڈڈ کام کو اٹھانے کا ٹھیکہ لیا تو ہر کسی نے اس دوڑ میں شامل ہونے کی کوشش کی اور آج کے دور کا معیار photo.net جیسے پروفیشنل فورم سے ہٹ کر 500px بن گیا
ڈیجیٹل ہونے کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا نے لوگوں کو ایک دوسرے سے باندھا تو انسان نے دوسرے انسان کو اس کے کام سے پرکھنے کی بجائے اس کی ذات اور مہنگے کیمروں ، لینزز سے پرکھنا شروع کر دیا ۔۔۔ رنجشیں ، کدورتیں ، حسد ، کھینچا تانی ، بھیڑ چال شروع ہوئی ( جو کہ ہر دور میں رہی ہے لیکن پہلے اتنی قربتیں تھیں نہ ملنے کے مواقع) ۔۔۔ فنکار اپنی ذات کو نکھارنے میں لگے رہے اور لوگ ان میں کیڑے نکالنے میں ۔۔۔ کام پر توجو کا یہ عالم ہے کہ آج پاکستان میں ماسوائے گنتی کے لوگوں کے جو شاید انگلیوں پر ختم ہو جاتے ہیں کوئی ڈھنگ کا کام نہیں کر سکا ۔۔۔۔
پھر اس دور کی سب سے بڑی خرابی ایگو ہے ۔۔۔ کچھ نہ کرتے ہوئے بھی لوگ انا کا شکار ہیں ، خود پرستی کا ، ستائش کا ۔۔۔ گروپنگ ، حلقہ بندیاں ۔۔۔ ہر کسی کے چمچے ہیں اور جگہ جگہ پر اپنی ڈیڑھ انچ کی مسجد ہے ۔۔۔ ہر فوٹوگرافر پر لیبل لگا ہے اچھا یا برا ۔۔۔ اور اکثریت چونکہ تعلیم سے محروم ہے ، اپنے ذہن سے فارغ ہے ، سوچ سے فارغ ہے اس لیئے بت پرستی عام ہے ۔۔۔ پرسنیلٹی کریش جگہ جگہ ہے ۔۔۔۔
آج کے دور میں فوٹوگرافرز بہت ہیں فنکار بہت کم ۔۔۔ انسان کو فنکار اس کا مائینڈ سیٹ بناتا ہے ، ویژن بناتا ہے اس کا کام نہیں ۔۔۔ اچھا فوٹوگرافر ہونا اور بات ہے فنکار ہونا الگ بات ہے ۔۔۔ وین گاف آج بھی زندہ ہے کیونکہ فنکار تھا جبکہ اس کے دور کا ہنری مٹیسی جو سب سے زیادہ بکتا تھا اس کا نام کم کم ہی جانتے ہوں گے ۔۔۔۔ فوٹوگرافی میں گیلن روول آج بھی زندہ ہے جبکہ آرٹ وولف کی کلاس جب تک زندہ ہے رہے گی آج سے پچاس سال بعد پہچان کھو دے گی ۔۔۔۔
ویسے تو یہ حال ہمارے معاشرے میں ہر شعبے میں ہے ، چاہے لکھاری ہوں ، مصور ہوں یا کچھ بھی ۔۔۔ میں چونکہ فوٹوگرافی سے وابستہ ہوں زیادہ اس لیئے اس پر لکھا ورنہ تو سماج کے ذہنی ارتقا کی جو حالت ہے ساری دنیا کے سامنے ہے ۔۔۔
میری آج کی نوجوان نسل سے اپیل ہے ( حالانکہ میں خود ابھی جوان ہوں ، نوجوان نہیں تو کیا ہُوا :) )کہ اچھے کام سے انسپائر ضرور ہوں لیکن فوٹوگرافروں کو رول ماڈل نہ بنانا مجھ سمیت ۔۔۔ شہرت کا بوٹا وہ چیز ہے کہ جوں جوں انسان اس پر چڑھتا جاتا ہے توں توں دل میں دوسروں سے عناد ، انا اور منافقت بڑھتی جاتی ہے ۔۔۔ یہ اس معاشرے کا ٹیکنیکل فالٹ ہے ۔۔۔ اس کلچر میں رہتے ہوئے بھی شاید اگلی نسل اسے بدلنے کی کوشش کرے ۔۔۔ امید ہی کی جا سکتی ہے ۔....

No comments:

Post a Comment

Hazrat Umar (R.A)

حضرت عمر فاروق رضی اللّٰہ کے دور میں ایک بدو آپ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے ملنے مدینے کو چلا، جب مدینے کے پاس پہنچا تو ادھی رات کا وقت ہو چ...