Thursday, 4 July 2019

Hazrat Umar (R.A)

حضرت عمر فاروق رضی اللّٰہ کے دور میں ایک بدو آپ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے ملنے مدینے کو چلا، جب مدینے کے پاس پہنچا تو ادھی رات کا وقت ہو چکا تھا ساتھ میں حاملہ بیوی تھی تو اس نے مدینے کی حدود کے پاس ہی خیمہ لگا لیا اور صبح ہونے کا انتظار کرنے لگا، بیوی کا وقت قریب تھا تو وہ درد سے کراہنے لگی، حضرت عمر فاروق رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ اپنے روز کے گشت پر تھے اور ساتھ میں ایک غلام تھا، جب آپ نے  دیکھا کے دور شہر کی حدود کے پاس آگ جل رہی ہے اور خیمہ لگا ہوا ہے تو آپ نے غلام کو بھیجا کہ پتہ کرو کون ہے

 جب پوچھا تو اس نے ڈانٹ دیا کہ تمہیں کیوں بتاؤں، آپ گئے اور پوچھا تو بھی نہیں بتایا آپ نے کہا کہ اندر سے کراہنے کی آواز آتی ہے کوئی درد سے چیخ رہا ہے بتاؤ بات کیا ہے تو اس نے بتایا کہ میں امیر المومنین حضرت عمر فاروق سے ملنے مدینہ آیا ہوں میں غریب ہوں اور صبح مل کے چلا جاؤں گا، رات زیادہ ہے تو خیمہ لگایا ہے اور صبح ہونے کا انتظار کر رہا ہوں، بیوی امید سے ہے اور وقت قریب آن پہنچا ہے تو آپ جلدی سے پلٹ کر جانے لگے کہ ٹہھرو میں آتا ہوں، آپ اپنے گھر گئے اور فوراً اپنی زوجہ سے مخاطب ہوئے کہا کہ اگر تمہیں بہت بڑا اجر مل رہا ہو تو لے لو گی زوجہ نے کہا کیوں نہیں تو آپ نے کہا چلو میرے دوست کی بیوی حاملہ ہے،وقت قریب ہے چلو اور جو سامان پکڑنا ہے ساتھ پکڑ لو،

آپ کی بیوی نے گھی اور دانے پکڑ لئے اور آپ کو لکڑیاں پکڑنے کا کہا آپ نے لکڑیاں اپنے اوپر لادھ لیں،،، سبحان اللہ ۔۔۔ (یہ کوئی کونسلر، ناظم ، ایم پی اے یا ایم این اے نہیں یہ اس کا ذکر ہو رہا ہے دوستو جو کہ 22 لاکھ مربع میل کا حکمران ہے جس کے قوانین آج بھی چلتے ہیں جو عمر فاروق ہے )  جب وہ لوگ وہاں پہنچے تو فوراً کام میں لگ گئے بدو ایسے حکم چلاتا جیسے آپ شہر کے کوئی چوکی دار یا غلام ہیں،، کبھی پانی مانگتا تو آپ دوڑے دوڑے پانی دیتے کبھی پریشانی میں پوچھتا کہ تیری بیوی کو یہ کام آتا بھی ہے تو آپ جواب دیتے،،  جبکہ اس کو کیا پتہ کہ امیر المومنین حضرت عمر فاروق خود ہیں،

 جب اندر بچے کی ولادت ہوئی تو آپ کی زوجہ نے آواز لگائی یا امیر المومنین بیٹا ہوا ہے تو یا امیر المومنین کی سدا سن کر اس بدو کی تو جیسے پاؤں تلے زمین نکل گئی اور بے اختیار پوچھنے لگا کیا آپ ہی عمر قاروق امیر المومنین ہیں ؟؟ آپ عمر ہیں ؟ وہی جس کے نام سے قیصر و کسریٰ کانپے آپ وہ ہیں وہی والے عمر ہیں جس کے بارے میں حضرت علی نے کہا کہ آپ کے لئے دعا کرتا ہوں اور جس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دعا مانگ کر اسلام کے لئے مانگا وہی والے نا؟؟
آپ نے کہا ہاں ہاں میں ہی ہوں اس نے کہا کہ ایک غریب کی بیوی کے کام کاج میں آپ کی بیوی،خاتون اول لگی ہوئی ہے اور دھوئیں کے  پاس آپ نے اپنی داڑھی لپیٹ لی اور میری خدمت کرتے رہے؟ تو سیدنا عمر رو پڑے اس بدو کو گلے سے لگایا اور کہا تجھے پتا نہیں توں کہا آیا ہے ؟ ؟ یہ مدینہ ہے میرے آقا کا مدینہ یہاں امیروں کے نہیں غریبوں کے استقبال ہوتے ہیں، غریبوں کو عزتیں ملتی ہیں، مزدور اور یتیم بھی سر اٹھا کر چلتے ہیں !!
سبحان اللہ

پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجئے. ۔۔..۔۔

Sunday, 28 October 2018

Junaid Jamshed Story

’مولوی صاحب آپ نے گانا کیوں چھوڑدیا تھا‘‘

میں نے ایک دن جنید جمشید سے پوچھا ’’مولوی صاحب آپ نے گانا کیوں چھوڑدیا تھا‘‘ اس نے قہقہہ لگایا اور دیر تک ہنستا رہا‘ میں خاموشی سے اس کی طرف دیکھتا رہا‘ اس نے عینک اتاری‘ ٹشو سے آنکھیں صاف کیں اور ہنستے ہنستے جواب دیا ’’یار تم نے مجھے جس انداز سے مولوی صاحب کہا‘ میں وہ انجوائے کر رہا ہوں‘ تم مجھے یہ انجوائے کرنے دو‘‘ وہ اس کے بعد دوبارہ ہنس پڑا‘ وہ ہنستے ہنستے خاموش ہوا اور پھر بولا ’’یار گانے نے مجھے شہرت دی‘ عزت دی اور پیسہ دیا‘ اگر کچھ نہیں دیا تو وہ سکون تھا‘ سکون مجھے مولوی صاحب بن کر ملا اور یہ جب مجھے مل گیا تو مجھے پتہ چلا سکون دنیا کی سب سے بڑی نعمت ہوتا ہے۔
پیسہ‘ عزت اور شہرت تینوں مل کر بھی اس کا مقابلہ نہیں کر سکتے‘‘ وہ اس کے بعد دوبارہ ہنسا اور بولا ’’میں ویمبلے میں شو کرنا چاہتا تھا‘ میری خواہش تھی‘ میرا خیمہ درمیان میں ہو اور دوسرے گلوکاروں‘ موسیقاروں اور اداکاروں کے خیمے دائیں بائیں ہوں‘ میں 1992ء میں ویمبلے گیا‘ امیتابھ بچن کا خیمہ درمیان میں تھا‘ لوگ اس کے ہاتھ چوم رہے تھے‘وہ اس پر واری واری جا رہے تھے‘ وہ اس کے ساتھ تصویریں بنوانے کے لیے ایک دوسرے کو روند رہے تھے‘ میں نے یہ عزت دیکھی تو میرے دل میں خیال آیا‘ کیا میں بھی کبھی اس مقام تک پہنچ سکتا ہوں‘ کیا مجھے بھی یہ عزت‘ لوگوں کا یہ والہانہ پن مل سکتا ہے‘ وہ شاید قبولیت کی گھڑی تھی۔
اللہ نے میری دعا سن لی اور وہ وقت آ گیا جب میرا خیمہ ٹھیک اس جگہ تھا جہاں کبھی امیتابھ بچن نے راتیں گزاریں تھیں‘ نوجوان لڑکیاں اور لڑکے اس دن میرے ساتھ تصویریں بنوانے کے لیے بھی ایک دوسرے پر گر رہے تھے‘ مجھے بہت خوشی ہوئی‘ میں اندر سے نہال ہو گیا‘ میں کئی دن اس سرشاری میں رہا لیکن پھر‘‘ وہ خاموش ہو گیا‘ وہ دیر تک کچھ سوچتا رہا‘ پھر اس نے سر اٹھایا‘ میری طرف دیکھا اور بولا ’’لیکن پھر ایک نئے احساس نے اس سرشاری کی جگہ لے لی۔
مجھے محسوس ہوا میری کامیابی نے مجھے عزت تو دے دی لیکن میں سکون سے محروم ہوں‘ مجھے یہ بھی محسوس ہوا سکون عزت سے بڑی چیز ہے اور مجھے اس بڑی چیز کی طرف جانا چاہیے‘‘ میں خاموشی سے سنتا رہا‘ وہ بولا ’’میں اس کے بعد بھی گاتا رہا‘ لوگ میرا گانے سنتے تھے‘ جھومتے تھے اور مجھے چومتے تھے‘ دل دل پاکستان اور سانولی سلونی سی محبوبہ میری پہچان بن گیا‘ میں جہاں جاتا تھا لوگ مجھ سے فرمائش کرتے تھے‘ جے جے سانولی سلونی ہو جائے اور میں ذرا سا گنگنا کر آگے نکل جاتا تھا لیکن میں اب عزت کے ساتھ ساتھ سکون بھی تلاش کر رہا تھا اور پھر اللہ تعالیٰ نے کرم کیا اور مجھے یہ نعمت بھی مل گئی‘‘ وہ خاموش ہو گیا۔
میں نے اس سے پوچھا ’’تم تبلیغی جماعت اور مولانا طارق جمیل کے قابو کیسے آ گئے‘‘ اس نے ایک قہقہہ لگایا اور بولا ’’پاکستان کا ہر شہری زندگی میں کبھی نہ کبھی ڈاکٹر‘ پولیس اور تبلیغی جماعت کے قابو ضرور آتا ہے‘ زیادہ تر لوگ ان کے ساتھ چند دن گزار کر واپس آ جاتے ہیں لیکن تھوڑی سی تعداد دائمی مریض‘ عادی مجرم اور مولوی صاحب بن کر مستقلاً ان کا حصہ بن جاتے ہیں۔
میں بھی ایک دوست کے ذریعے مولانا طارق جمیل سے ملا اور پھنس گیا‘‘ میں نے پوچھا ’’آپ کیسے پھنس گئے‘‘ اس نے قہقہہ لگایا اور جواب دیا ’’مجھے اس شخص نے اتنی محبت دی جو مجھے اس سے پہلے کسی سے نہیں ملی تھی‘ یہ محبت میرے لیے نشہ ثابت ہوئی اور میں اس نشے کی لت کا شکار ہوتا چلا گیا‘ میں نے دین کا مطالعہ شروع کر دیا‘ میں شغل شغل میں چلے لگانے لگا اور مجھے جب ہوش آئی تو میں اس وقت تک اچھا خاصا مولوی صاحب بن چکا تھا‘‘ میں نے اس سے پوچھا ’’آپ اچھے خاصے سمجھ دار انسان ہیں‘ آپ درمیان میں بھاگ کیوں نہیں گئے؟‘‘۔
اس نے ایک اور قہقہہ لگایا اور بولا ’’میں نے بھاگنے کی ایک آدھ ٹرائی کی تھی‘ میں نے گانا چھوڑ دیا تھا لیکن پھر اچانک احساس ہوا جنید جمشید تم کھاؤ گے کہاں سے‘تمہیں اس کے علاوہ کوئی کام ہی نہیں آتا‘ گانا میری زندگی بھی تھا‘ مجھے محسوس ہوتا تھا میں نے اگر یہ بند کر دیا تو مجھ سے میری زندگی چھن جائے گی چنانچہ میں نے شیو کی اور اپنی دنیا میں واپس آ گیا لیکن چند دن بعد غلطی کا احساس ہو گیا‘ میں اس نتیجے پر پہنچ گیا مجھے سکون اور شہرت‘ دولت‘ عزت میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہو گا۔
میرے اندر کشمکش جاری تھی لیکن پھر اللہ تعالیٰ نے کرم کیا‘ میرے دماغ سے غلط فہمیوں کے اندھیرے چھٹ گئے اور میں دوبارہ اس لائین پر آ گیا جہاں مجھے ہونا چاہیے تھا‘ میں تبلیغ والوں کے ساتھ شامل ہو گیا‘‘ میں نے پوچھا ’’لیکن کیا شہرت‘ عزت اور دولت آسانی سے چھوٹ گئی؟‘‘ تڑپ کر جواب دیا ’’بہت مشکل تھا‘ گانا میرا واحد سورس آف انکم تھا‘ مجھے شہرت کی لت بھی پڑ چکی تھی‘ میرے لیے فینز‘ تصویریں اور آٹوگرافس زندگی تھی‘ میرا گانا میرا شناختی کارڈ تھا‘ میں اس شناختی کارڈ کے بغیر کچھ بھی نہیں تھا چنانچہ میں گانے کے بغیر معاشی‘ سماجی اور ذہنی طور پر زندہ نہیں رہ سکتا تھا لیکن پھر میں نے ایک سودا کیا‘ میں نے اللہ کے نام پر اپنے تینوں اثاثے قربان کر دیے۔
میں نے عزت‘ شہرت اور روزگار تینوں چھوڑ دیے اور اللہ کی راہ پر لگ گیا‘‘ وہ خاموش ہو گیا‘ میں نے پوچھا’’کیوں؟ آپ نے یہ کیوں کیا؟‘‘ وہ بولا’’ میں بنیادی طور پر اللہ کا قانون ٹیسٹ کر رہا تھا‘ میں نے کسی جگہ پڑھا تھاجو شخص اللہ کے ساتھ سودا کرتا ہے‘ جو اللہ تعالیٰ کے نام پر اپنی عزیز ترین چیز قربان کردیتا ہے اللہ تعالیٰ اسے کبھی مایوس نہیں کرتا‘ خدا کی ذات اسے اس کے حق سے زیادہ نوازتی ہے‘ میں نے اللہ کے اس اعلان‘ اس وعدے کو ٹیسٹ کرنے کا فیصلہ کیا‘ میں نے اپنا کل اثاثہ اللہ کی راہ میں قربان کر دیا‘ میرے بھائی جاوید آپ یقین کرو اللہ تعالیٰ نے میری تینوں چیزیں ستر سے ضرب دے کر مجھے واپس لوٹا دیں۔
میں نے اللہ تعالیٰ کے راستے میں لاکھوں روپے کی قربانی دی تھی‘ رب کی ذات نے مجھے کروڑوں روپے سے نواز دیا‘ میں نے آج تک ایک رومال نہیں بنایا‘ آپ اللہ کا کرم دیکھو‘ دنیا میں جنید جمشید کے نام سے کپڑوں کا سب سے بڑا پاکستانی برانڈ چل رہا ہے‘ میں راک اسٹار کی حیثیت سے مشہور تھا‘ آپ اللہ کا کرم دیکھو میں آج نعت خوانی اور اللہ کے ذکر کے حوالے سے پوری دنیا میں مشہور ہوں‘ لوگ مجھے دل دل پاکستان کی وجہ سے عزت دیتے تھے لیکن آج لوگ الٰہی تیری چوکھٹ پر سوالی بن کے آیا ہوں کے حوالے سے میرے ہاتھ چومتے ہیں۔
ْمیں کبھی جینز پہن کر اسٹیج پر ناچتا تھا اور عزت دار لوگ اپنی بہو بیٹیوں کو میرے سائے سے بچا کر رکھتے تھے لیکن میں آج سر پر عمامہ اور ٹوپی رکھ کر منبر رسولؐ پر بیٹھتا ہوں اور لوگ مجھ سے اپنے بچوں کے لیے دعا کرواتے ہیں‘ آپ دل پر ہاتھ رکھ کر جواب دیں کیا یہ اس سے ستر گناہ زیادہ نہیں جس کی میں نے قربانی دی تھی‘‘ وہ خاموش ہو گیا۔
میں اس وقت آج کے مقابلے میں زیادہ گمراہ‘ زیادہ سنگدل اور زیادہ بددیانت تھا چنانچہ میں نے اس کا مذاق اڑانا شروع کر دیا‘ میں نے اس سے کہا ’’آپ اگر ان مولویوں کے ہاتھ سے بچ گئے جو اس وقت آپ کی گردن کی تلاش میں مارے مارے پھر رہے ہیں‘ جو آپ کو گستاخ اور حضرت عائشہ ؓ کا گناہ گار سمجھ رہے ہیں تو میں آپ کو آپ کے سوال کا جواب ضرور دوں گا‘‘ وہ بھی ہنس پڑا لیکن میں نے جب سات دسمبر کو جنید جمشید کے ائیر کریش کی خبر سنی اور اس کے بعد جس طرح پورے ملک کو اس کے سوگ میں ڈوبتے دیکھا اور پھر 15دسمبر کو کراچی میں اس کا جنازہ دیکھا تو میں اس کو سچا ماننے پر مجبور ہو گیا۔
ملک میں ہزاروں علماء کرام‘ سیاستدان‘ بیورو کریٹس‘ صوفیاء کرام‘ اداکار‘ گلوکار اور ارب پتی تاجر فوت ہوئے‘ ان کے جنازے جنازہ گاہوں میں پڑھائے گئے لیکن جنید جمشید کا جنازہ اسٹیڈیم میں پڑھا گیا اور اس میں حقیقتاً لاکھوں لوگ شریک تھے‘ تاحد نظر سر ہی سر اور بازو ہی بازو تھے‘ جنید جمشید کو اس سے پہلے ائیرفورس نے گارڈ آف آنر بھی دیا‘ اس کے کفن کو پاکستانی پرچم میں بھی لپیٹا اور اسے سی ون تھرٹی کے ذریعے اسلام آباد سے کراچی بھی پہنچایا ‘ یہ اعزاز آج تک کسی گلوکار کو حاصل ہوا؟ جی نہیں! دنیا میں مہدی حسن اور نورجہاں جیسے گلوکار دوبارہ پیدا نہیں ہوں گے۔
بڑے غلام علی خان‘ نصرت فتح علی خان‘ عزیز میاں قوال‘ استاد امانت علی خان اور صابری برادران موسیقی کے استاد تھے‘ یہ استاد کس عالم میں دنیا سے رخصت ہوئے اور ان کے جنازے کیسے اور کتنے تھے؟ ہم سب جانتے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ نے جو عزت جنید جمشید جیسے ایک سابق گلوکار کو دی یہ بھی سارا زمانہ جانتا ہے ‘ موسیقی کے استاد ہونے کے باوجود یہ لوگ دنیا سے کسمپرسی میں رخصت ہوئے جب کہ جنید جمشید کے غم کو ہر شخص نے ٹیس کی طرح محسوس کیا‘ یہ کیا ثابت کرتا ہے‘ یہ ثابت کرتا ہے وہ ٹھیک کہہ رہا تھا‘ اس نے اللہ تعالیٰ سے سودا کیا تھا اور اللہ تعالیٰ نے اس کی قربانی کو ستر سے ضرب دے کر اس کے تمام اثاثے اسے لوٹا دیے۔
جنید جمشید نے ہم جیسے لوگوں کی آنکھیں کھول دیں‘ اس نے ثابت کر دیا اللہ کے ساتھ سودا کرنے والے کبھی خسارے میں نہیں رہتے‘ عزت قربان کرو گے تو اللہ عزت کو ستر گنا کر کے لوٹائے گا اور شہرت اور دولت کی قربانی دو گے تو اللہ تعالیٰ انھیں بھی ستر سے ضرب دے کر لوٹائے گا‘ بے شک اللہ تعالیٰ کی اسٹاک ایکسچینج کائنات کی سب سے بڑی اسٹاک ایکسچینج ہے‘ یہ کبھی کریش نہیں ہوتی‘ یہ کبھی اپنے شیئر ہولڈرز کا خسارہ نہیں ہونے دیتی‘ اس کا انڈیکس ہمیشہ اوپر جاتا ہے‘ اوپر سے اوپر اور اوپر۔
❤پاکستان زندہ باد💚........

Sunday, 23 September 2018

Atom bomb

ایٹمی حملہ کے بعد کیسے بچا جائے؟
آج کے دور میں انسان کو جس سب سے خوفناک غیر فطری آفت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے. وه ہے ایک ایٹمی حملہ.
اگر آپ کے شہر پر ایٹم بم گرا دیا جائے. تو بهی آپ زنده بچ سکتے ہیں. کیسے؟
جانیئے اس تحریر میں،
ایٹمی حملے کا خطره کہاں ہے؟
دنیا میں اس وقت 15،000 کے قریب ایٹمی ہتهیار موجود ہیں.
جن ممالک میں ایٹمی حملے کا خطر سب سے زیاده ہے وه یہ ہیں
جنوبی کوریا،
شمالی کوریا،
پاکستان،
بهارت،
اسرائیل،
ایران،
اس کے علاوه روس و امریکہ بهی ایٹمی جنگ کا نشانہ بن سکتے ہیں.
دارالحکومت، اہم فوجی چهاونیاں، اہم شہر اور زیاده آبادی والے علاقے ایٹمی حملوں کا اولین نشانہ ہیں.
‏"حالات پر نظر رکهیں":
ایٹمی حملہ جنگ میں ہمیشہ آخری آپشن ہوتا ہے. اپنے ملک اور بین الاقوامی معاملات سے خود کو باخبر رکهیں اور کسی جنگ کی صورت میں پیشگی تدابیر تیار رکهیں.
پناه گاه:
آپ ایٹمی حملے اور اس کے اثرات سے صرف اس صورت میں ہی بچ سکتے ہیں اگر آپ کے پاس ایک مظبوط اور محفوظ پناه گاه موجود ہو.
بہترین پناه گاه زمین سے کم از کم 10 فٹ نیچے تہہ خانے کی صورت میں ہوگی. زمین پر بهی پناه گاه بنائی جاسکتی ہے تاہم وه تابکاری کو مکمل طور پر نہیں روک سکے گی، زمین پر بنائی جانے والی پناه گاه عمارتی پتهروں سے بنائی جانی چاہیے اگر عام اینٹیں اور کنکریٹ کا استعمال کرنا ہوتو پهر اینٹوں کی ایک کے بجائے کم از کم 5 پرتیں لگائی جائیں.
سامان:
اپنی پناه گاه میں اتنا سامان ہمہ وقت سٹور رکهیں جو3,2 ہفتوں کے لیے کافی ہو،
سامان کی تفصیل:
‏1- ٹن پیک کهانا جس میں گوشت کا کوئی آئیٹم شامل نا ہو بلکہ سبزیاں ، پهل اور بینز وغیره هوں تاکه فوڈ پوائزننگ کی اضافی مصیبت سے بچا جاسکے.
‏2- ڈسٹلڈ یا منرل واٹر کی بوتلیں.
‏3-پانی کا ایک بڑا ٹینک جو نہانے وغیره کے کام آئے گا.
‏4- ایک ریڈیو.(آپ کا موبائل تابکاری کے پہلے جهٹکے کے بعد ناکاره ہوجائے گا).
‏5-کپڑوں کا ایک اضافی جوڑا.
‏6- کتابیں، جو کئی دن زیر زمین گزارنے میں معاون ثابت ہونگی.
‏7- فرسٹ ایڈ کٹ.
‏8- ادویات جن میں بخار، سردرد، جسم درد کی گولیاں، سلیپنگ پلز
9-بیٹریز یا بجلی کا متبادل انتظام
ٹارچ
پوٹاشیم آئیوڈائیڈ کی گولیاں
‏(دهماکے کے اول دن استمال کریں)
پینسلین پوٹاشیم
سیفیٹک اینٹی-سیپٹک سپرے
اگر ایٹمی حملہ ہوجائے؟
کسی بهی حادثے یا حملے کی صورت میں زنده بچ جانے کا پہلا اصول اپنے ہوش و حواس کو قابو اور دماغ کو حاضر رکهنا ہے.
ایٹمی حملہ ہونے ایک ایک سیکنڈ کے اندر اندر آپ کو ایک زوردار دھماکہ سنائی دے گا اور فورا "مشروم" کی شکل کا ایک کئی میل اونچا دھویں کا طوفان نظر آئے گا. فورا سمجھ جائیے که یہ ایٹمی حملہ ہے.
اب بچنے کی جدوجہد شروع کیجئے:
ایٹمی تباهی کے تین مراحل ہیں،
ابتدائی دهماکہ.
فال آوٹ
تابکار طوفان
اگر تو ایٹمی وار هیڈ آپ کی لوکیشن کے ڈیرڈھ میل کے اندر اندر گرایا گیا ہے تو فورا کلمه پڑھ لیں اور بیٹهے ہیں تو کهڑے ہوجائیں اگلے تین سیکنڈز کے اندر اندر آپ کا وجود بهاپ بن کے اڑ جائے گا. اگر ایٹمی حملے کے لوکیشن سے ڈیرڈھ میل دور ہے تو آپ بچ سکتے هیں.
پهلا دهماکہ سنائی دینے کے بعد آپ کے پاس زیاده سے زیاده 5 سیکنڈزہیں. دهماکے کی مخالف سمت میں کسی بهی ٹهوس چیز ، دیوار یا کسی گہری جگہ پہنچیں ، زمین پر الٹا لیٹ جائیں، اپنے دونوں ہاتھ سر پر رکهتے ہوئے کانوں کو ڈهانپ لیں اور ٹانگیں کراس کرلیں، اسی دوران آپ کو ایک اور زور دار دهماکہ سنائی دے گا جو کے پهلے دهماکے سے سوگنا زیاده طاقتور ہوگا اور شدید زلزله پیدا کرے گا. مبارک ہو! آپ ابتدائی دهماکے سے بچ نکلے.
دهماکہ سنائے دینے کے دو سے تین سیکنڈ اٹھ کهڑے ہوں اور اپنی پناه گاه کیطرف بهاگیں.
فال آوٹ:
پهلے دماکے میں ناصرف سینکڑوں عمارات دهواں بن کے اڑ گئیں جو جن کا ملبہ اب بارش کی صورت میں برسے گا اور ساتھ ہی تابکاری سے بهرے "الفا پارٹیکلز" کی بارش بهی شروع ہوجائے گی. دهماکے کی طرف ہرگز مت مڑکے دیکهیں. اور فال آوٹ میں گرتی چیزوں سے بچنے کی کوشس کریں.
اگر آپ صحیح سلامت پناه گا تک پهنچ گئے تو مبارک ہو! آپ فال آوٹ سے بچ نکلے.
پناه گاه میں داخل هوتے ہی ایک لمحه ضائع کیے بغیر اپنا سارا لباس اتار دیں کیونکہ فال آوٹ کے دوران یہ بڑی مقدار میں الفا پارٹیکلز چوس چکا ہوگا. اس کے بعد اگر آپ زخمی ہیں تو خود ابتدائی طبی امداد لیں اگر صحیح سلامت ہیں تو غسل کرلیں تاکہ فال آوٹ کے بچے کهچے اثرات سے ہرممکن حد تک بچا جاسکے.
اب زمین پر ہر طرف تابکاری کا طوفان ہے اور آپ کو پناه گاه میں کئی دن تک رہنا ہے.‏
یاد رکهیں:‏
‏1-کم سے کم کهائیں.‏
‏2- جتنا ممکن ہوسکے سوکر وقت گزاریں.‏
‏3- ریڈیو سنتے رہیں اور باهر کے حالات سے باخبر رہیں.‏
‏4-اپنی ہمت بحال رکهیں.‏‎
‏5- اگلے چند دن میں آپ ریڈیو ایکٹو سکنس کا شکار ہوسکتے ہیں جس میں آپ کو تیز بخار، گهٹن، الٹیاں ہوسکتی ہیں. اپنے پاس موجود ادویات کو استعمال کریں.
دهماکے کے زیاده سے زیاده 5 دنوں بعد امدادی ٹیمیں اور فوجی دستے آپ کے علاقے میں پهنچ جائیں گے.ریڈیو سنتے ریہں جب آپ کو یقین هوجائے کے آپ کے علاقے میں امدادی سرگرمیاں شروع ہوچکی ہیں تو باهر نکل کر قریب ترین امدادی کارکن سے فوری رابطہ کریں تاکہ آپ کو تابکاری کے علاقے سے فوری طور پر نکالا جاسکے.
اگر تو کوئی امدادی ٹیم آپ تک نا پہنچ سکے تو بیس دن بعد پناه گاه سے نکلیں. اب تک تابکاری کا طوفان تهم چکا ہوگا.
زندگی کی طرف سفر........
پناه گاه سے نکلتے ہی ممکن آپ کو پہلا احساس یہی ہو کہ لاکهوں میں سے صرف آپ ہی زنده بچے ہیں. اب جس قدر جلدی ممکن ہو علاقہ چهوڑدیں.....

Thursday, 30 August 2018

imran Khan ke Jaan ko Khatra

عمران خان کو ٹھکانے لگانے کے لیے ملک میں چند گھنٹے پہلے 
,,کون داخل ہوا ہے؟ پاک آرمی نے بندوقیں تیار کر لی

عمران خان کی جان کو اب بھی بہت خطرہ لاحق ہے، ریڈ الرٹ جاری! دنیا بھر میں اگر بات کی جائے انٹیلی جنس سروس کی تو سب سے پہلے آئی ایس آئی کا نام سامنے آتا ہے. پاکستان کی انٹیلی جنس کے ایک بہت نامور سابق جنرل جنکا نام ہم آپکو نہیں بتا سکتے کیونکہ سیکورٹی خدشات کی وجہ سے یہ نام راز میں رکھنے کا کہا گیا ہے. ان سابق جنرل نے تفصیلاً بتایا ہے کہ پاکستان کے اندر شروع سے ہی ایسا چلتا آیا ہے کہ اگر کوئی صحیح شخص پاکستان کی حکمرانی کرے گا، پاکستان کو بحران سے نکالنے کی بات کرے گا تو اس شخص کو ایک ایسی طاقت کا سامنا کرنا پڑے گا جو منظر عام پر نہیں آتی. اس طاقت کے پیچھے یہودی لابی، عیسائی لابی، اور ہندو لابی مل جل کر کام کر رہے ہیں. اسی وجہ سے پاکستان میں اب تک جتنے بھی نامور مسیحا آئیں ہیں انھیں جلد ہی آبدی نیند سلا دیا گیا..

مزید سابق جنرل نے یہ بھی بتایا کہ ایک ہالی ووڈ کا ایسا کریکٹر ہے جسے ہالی ووڈ کی فلم سے لیا گیا ہے. اسکا نام جیورج ہے، اسکا تعلق القاعدہ، داعش، آئی ایس آئی، سی آئی اے اور ایم آئی سکس کے ساتھ ہے. جیورج ایک ایسا شخص ہے جب کبھی کسی بڑی شخصیت کو مروانا ہو تو اس سے رابطہ کیا جاتا ہے. آج کل جیورج کو پاکستان کے نئے وزیراعظم عمران خان کو قتل کرنے کا ٹاسک دیا گیا ہے. اس لیے سی آئی اے نے ایک بہت خطرناک ایجنٹ کی پاکستان میں داخلے کی تصدیق کر دی ہے. اس ضمن میں آرمی نے 384 لوگوں کو گرفتار کر لیا ہے جن سے پوچھ گچھ جاری ہے....

Saturday, 11 August 2018

Pti social Media Team & technology

پچھلے دو دن سے ٹیکنالوجی کی دنیا کی بڑی اور اہم ترین خبر پاکستان کے حوالے سے بنی۔

خبر کے مطابق تحریک انصاف کی حالیہ انتخابات میں کامیابی میں اہم ترین کردار ایک موبائل ایپ نے ادا کیا جس کی بدولت تحریک انصاف کو اپنی مخالف جماعتوں پر سٹریٹیجک ایڈوانٹیج حاصل ہوگیا۔

جس وقت عمران خان 2014 میں آزادی مارچ کے ذریعے اسلام آباد میں دھرنے کی تیاری کررہا تھا، دوسری طرف اس کی ٹیکنالوجی ٹیم نے خاموشی سے ایک ایپ ڈویلپ کرنا شروع کردی۔ جس وقت ن لیگ کا سوشل میڈیا سیل مریم نواز کی زیرقیادت فیک تصاویر اور  ٹیریان وائٹ کی تصویریں شئیر کرکے ماہانہ ڈھائی کروڑ روپے تنخواہ وصول کیا کرتا تھا، عین اسی وقت عمران خان کی ٹیکنالوجی ٹیم نے ملک بھر سے 5 کروڑ سے زائد ووٹرز کا ڈیٹا اکٹھا کرکے ایپ میں اپ لوڈ کرنا شروع کردیا۔

یہ کام پورا ایک سال جاری رہا اور اس کے نتیجے میں پاکستان کے ہر اہم حلقے کے تمام رہائشی ووٹرز اور ان کے خاندان کے تمام افراد کی تفصیلات کی انٹری اس ایپ میں ہوچکی تھی۔

اگلے مرحلے میں ان حلقوں کے چیدہ چیدہ کارکنان سے کہا گیا کہ وہ اپنے علاقے کے تمام گھرانوں کے سیاسی رحجانات کے بارے میں ڈیٹا اکٹھا کرکے ایپ میں اپ ڈیٹ کریں۔

ایپ میں آرٹیفشل انٹیلیجنس یعنی مضنوعی ذہانت کی پروگرامنگ بھی کی گئی تھی جس کے تحت بہت سے فیکٹرز جن میں ہر گھرانے میں موجود افراد کی تعلیمی قابلیت، ذرائع آمدن، بیرون ممالک میں مقیم رشتے دار کی بنیاد پر یہ ایپ تجویز کرسکتی تھی کہ فلاں گھرانہ تحریک انصاف کا کس حد تک سپورٹر ہوگا۔ اگر مجموعی تعلیمی قابلیت زیادہ ہوتی، زرائع آمدن پرائیویٹ شعبوں میں نوکری ہوتا، یا اس گھر کا کوئی فرد بیرون ملک مقیم ہوتا تو 70 فیصد تک چانس تھا کہ وہ گھرانہ تحریک انصاف کو ووٹ دے گا۔

اس کی مزید تصدیق سروے کے ذریعے کروائی گئی جو پچاس کے قریب حلقوں میں کارکنان نے بڑی رازداری سے مرتب کیا۔ ہر حلقے سے ۳۰۰ کے قریب گھرانوں کے سیاسی رحجانات کی معلومات اکٹھا کی گئیں جنہیں ایپ کے انٹیلی جنس سسٹم سے میچ کرکے ایپ کی مصنوعی ذہانت کی تصدیق ہوگئی۔

یہ سارا کام خاموشی سے ہوتا رہا اور کسی کو کانوں کان خبر تک نہ ہونے دی گئی۔ پچھلے ڈیڑھ سال سے پٹواریوں، جماع تیوں اور ڈیزلیوں کا سارا فوکس اور امیدیں ریحام خان کی کتاب تھا جبکہ تحریک انصاف سائنٹفک اور پڑھے لکھے طریقے سے اپنی سٹریٹیجی ترتیب دے رہی تھی۔

پھر ۲۵ جولائی کے انتخابات کا مرحلہ آگیا۔ ڈیڑھ سو کے قریب حلقوں کو اس ایپ کے ذریعے مینج کیا گیا۔ ان حلقوں میں موجود ووٹرز کو براہ راست ایس ایم ایس کے ذریعے مسلسل ان کے پولنگ بوتھ کے بارے میں اطلاعات دی جاتی ہیں۔ الیکشن سے دو دن قبل عمران کان کا آڈیو اور ویڈیو پیغام بھی ان ووٹرز کو بذریعہ وآٹس ایپ بھیجا گیا جس نے خاطر خواہ اثر ڈالا۔

الیکشن کے دن پی ٹی سی ایل کی ہیلپ لائن سروس خراب ہوگئی تھی جس کی وجہ سے دوسری جماعتوں کے ایجنٹس کو ان کا پولنگ بوتھ جاننے میں مشکلات پیش آرہی تھیں لیکن تحریک انصاف کے ایجنٹس کے پاس ایپ تھی جس میں صرف شناختی کارڈ نمبر ڈالنے سے تمام تفصیلات سامنے آجاتیں، جنہیں پرنٹر کے ذریعے پرنٹ کرکے فوری طور پر ووٹر کو دے دیا جاتا۔ دوسری طرف مخالف جماعتوں کے ایجنٹس پرانے دقیانوسی طریقوں کے مطابق ہاتھ سے پرچی لکھتے اور جتنی دیر میں وہ ایک پرچی لکھتے، انصافی ایجنٹس بیس ووٹرز کو فارغ کرچکے ہوتے۔

اس سے قبل امریکی صدر اوبامہ نے سوشل میڈیا کو پہلی مرتبہ استعمال کرکے پوری دنیا میں دھوم مچا دی تھی، پھر 2016 کے الیکشن میں ٹرمپ نے سوشل میڈیا کے صارفین کا ڈیٹا حاصل کرکے کیمپین کی جس سے اسے کامیابی حاصل ہوئی۔ اب تحریک انصاف نے دنیا کو ایک نئی بیسٹ پریکٹس دکھا دی ہے جس کے تحت ووٹرز کا ڈیٹا اور ایک موبائل ایپ کے ذریعے آپ سارا الیکشن مینیج کرسکتے ہیں۔

قرآن کی پہلی نازل ہونے والی آیت اقرا سے شروع ہوتی ہے جس سے تعلیم کی اہمیت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ تحریک انصاف نے ثابت کردیا کہ پڑھا لکھا اور انپڑھ کبھی برابر نہیں ہوسکتے۔

یہی وجہ ہے کہ آج ن لیگ، پی پی، اے این پی، جے یو آئی اور جماعت اسلامی بری طرح ذلیل و خوار ہوچکیں، کیونکہ ان کے کارکنان بھی جاہل ہیں اور ان کے ووٹرز بھی۔

تعلیم کو عزت دو!!!!!!!

Tuesday, 31 July 2018

Dawat e Tableegh

متحدہ عرب امارات سے ایک جماعت چالیس دن کیلئے روس میں تبلیغ کی غرض سے گئی۔
تو جس مسجد میں انکی تشکیل ہوئی بدقسمتی سے اسکا قفل بھی زنگ آلود ہوچکا تھا ۔
جماعت کے ساتھیوں نے مسجد کھولی تو ساری مسجد مٹی کا ڈھیر بنی ہوئی تھی ۔
پوری مسجد میں گرد جمع تھی انہوں نے پوری مسجد کی صفائی کی نماز کا وقت ہوا آزان کی آواز سن کر ایک بڑھیاتیز قدموں سے چلتی ہوئی مسجد کی دہلیز پر آکھڑی ہوئی ۔
اور حیرت سے جماعت کے ساتھیوں کو تکنے لگی ۔
غور سے اردگرد کا معائنہ کرتی رہی۔
ساتھیوں کے دریافت کرنے پر کہا کہ میں یہی پڑوس میں رپتی ہوں ستر سال ہوگئے ہیں میں نے کبھی اس مسجد میں کسی کو آتے نہیں دیکھا ۔
جیسا آپکو کرتے دیکھا یہ سب میرے باپ دادا کرتے تھے لیکن انکے بعد جوں جوں وقت گزرتا گیا سب بدلتا گیا ۔
جب تبلیغیوں نے یہ دل سوز باتیں سنیں تو رونے لگ گئے کہ ھم نے آنے میں بہت دیر کردی ۔
اگلے دن یہ لوگ محلے میں گھر گھر دکان دکان پر جا کرکے لوگوں کو جو ناسمجھی کی وجہ سے مرتد ہوچکے تھے انکو اسلام کی دعوت دی پھر سے مسلمان کیا اور مسجد میں لائے ۔
چند ہی ہفتوں میں پورے محلے میں دین کی لہر آ گئی ۔ جیسا کہ اسلام انکے کیلئے اک نیا مذہب ہو ۔
کچھ دنوں بعد محلے والوں نے 500 گز کی قالین پر تمام لوگوں کو جمع کیا اور جماعت والوں سے دین کے معاملات سیکھے اور مزید محنت کیلئے لوگوں کو تاکید کی ۔
پھر جب ان کے چالیس دن پورے ہوگئے تو انکی رخصتی کے دن اس محلے میں گھمسان کا عالم تھا جیسے کہ انکا کوئی خاص عزیز فوت ہوگیا ہو ۔ یہ آپ کہاں جا رہے ہیں ؟؟ کیا آپ لوگوں کو دکانیں چاہئیں؟ ؟
کیا آپ لوگوں کو مکان چاہئے یا عورتیں؟ ؟؟ دکان مکان کا بندوبست ھمارے ذمے ہے ھم اپنی بیٹیوں کے نکاح آپ سے کرنے کیلئے تیار ہیں بس آپ لوگ ھمارے ساتھ رہ کر ھماری اسلام سے متعلق مزید رہنمائی فرمائیں ۔
تو جماعت والوں نے انکو اپنی ترتیب سے متعلق بتایا لیکن وہ مانے ۔
وہ لوگ بضد تھے کہ آپ لوگ واپس نہ جائیں کہیں پھر سے ھماری نسلیں تباہ نہ ہوجائیں تبلیغیوں نے اپنی مجبوریاں اور تقاضے بتائے تو بلاخر اس بات پر وہ آمادہ ہوگئے کہ ھم لوگ جاتے ہی اک دوسری جماعت بھیجنے کے لئے اپنے مرکز میں درخواست کریں گے ۔
اس طرح سے یہ جماعت اللہ کی راہ سے واپس اپنے گھروں کو لوٹ آئی۔

امریکہ میں قریبا 52 صوبے ہیں وہاں کے لوگ جب رائیونڈ میں اجتماع پر آئے تو درخواست کی کہ ھمیں ہر صوبے کیلئے الگ سے ایک جماعت چاہئے جو در
در پہنچ کر اسلام کی حقانیت سے لوگوں کو مستفید کریں۔

امریکہ میں اک جماعت گئی اس جماعت کے دولوگ ایک بندے کے پاس دین کی غرض سے پہنچے تو اس نے اک بندے کا گریبان پکڑ کر کہا میرے ابو امی بغیر کلمہ پڑھے اس دنیا سے چلے گئے ہیں اس سب کے ذمہ دار تم لوگ ہو ۔
تم لوگوں نے دین پہنچانے میں بہت دیر کر دی قیامت کے دن میں تم لوگوں سے اس بات کا حساب لونگا ۔
جب اس آدمی کا غصہ ٹھنڈا ہوا تو اس سے اس ملال کی وجہ پوچھنے پر معلوم ہوا کہ کچھ ہی ماہ پہلے وہاں کی اک دوسری جماعت آئی تھی جنکی بدولت یہ بندہ اسلام سے متاثر ہوکر حلقہ بگوش اسلام ہوا ہے اور اسکو دکھ ہے کہ اسکے والدین بہت بڑی نعمت سے شرمندہ ہوکر ھمیشہ کیلئے جہنم کی آگ میں جلیں گے۔

فلپائن میں 400 سال پہلے 100 فیصد مسلمان تھے لیکن اسلام سے ناھم آہنگی کی بدولت یہ لوگ اسلام سے دور ہوتے گئے اور کچھ لوگ تو برائے نام مسلمان رہ گئے باقی سب مرتد ہوگئے ۔
کسی کا بھائی عیسائی تو کسی کا باپ ۔
جب پہلی بار 1976 میں رائیونڈ سے وہاں جماعت گئی تو سات آدمی اس کام میں لگ گئے پھر 1993 تک ایک لاکھ فلپائینی تبلیغ کی محنت پر گامزن ہوچکے تھے .
بنگلہ دیش میں تبلیغی اجتماع کے موقع پر ایک فرانسیسی آچانک ممبر پر آکر کہنے لگا کہ اے لوگو ھم نے تم لوگوں تک چھوٹی سے چھوٹی اپنی ایجادات بھیجی تاکہ سارے لوگ ھماری ایجادات سے مستفید ہوں لیکن تم نے لوگوں نے مفت کا کلمہ تک ھمارے اجداد سے روکے رکھا اسکا حساب اللہ تم سے لے گا ۔

چند سال پہلے تنزانیہ میں ایک جماعت گئی ۔
کچھ ماہ بعد انکا ایک خط رائیونڈ میں موصول ہوا کہ یہاں کے لوگوں میں دین کی اتنی طلب اور پیاس ہے کہ ایک دن میں 3ہزار لوگوں نے اسلام کی دعوت قبول کر لی ۔
اور جب وہ جماعت سال پورا کرکے واپس آئی تو کارگزاری میں بتایا کہ ایک سال میں 20 ہزار لوگ مسلمان ہوئے ہیں ۔

انگلینڈ میں 1952 میں جب پہلی جماعت گئی تو وہاں صرف دو مسجدیں تھیں اور اب تبلیغ کی محنت اور اللہ کے کرم سے 1500 مساجد ہیں۔ ۔
جن میں سے 100 سابقہ گرجا گھر ہیں ۔
انگلیڈ والوں کا کہنا ہے کہ وہاں اب گرجا گھر بہت کم رہ گئے ہیں جب بھی کوئی گرجا گھر فروخت ہونے لگتا ہے تو مسلمان خریداری میں پہل کرتے ہیں ایک گرجا گھر کی خریداری پر ایک ہندو نے مندر بنانے کیلئے قیمت میں چھڑائی کردی تو مسلمانوں کی عورتوں نے اپنے زیور بیچ کر اسکی رقم ادا کی اور گرجا گھر کی جگہ مسجد تعمیر کرائی ۔
یاد رہے گرجا گھروں کی جگہ مسجدوں کی تعمیر کی بڑھتی ہوئی تعداد کی وجہ سے حکومت نے پابندی بھی لگائی تھی ۔ اب وہاں گرجا گھر صرف اتوار والے دن کھولے جاتے باقی پورا ہفتہ بند رہتے ہیں ۔

یوگوسلاویہ میں جب پہلی جماعت گئی تو دور دور تک مسجدوں کی عدم موجودگی کی وجہ سے انکو ہوٹل میں رہنا پڑا اور اب الحمدللہ دعوت و تبلیغ کی محنت سے وہاں آج 3500مساجد آباد ہیں ۔

ہالینڈ کا موجودہ تبلیغی مرکز پہلے پادریوں کا دینی مدرسہ تھا جہاں پر پادریوں کو دینی تعلیم دی جاتی تھی ۔

لندن میں جو تبلیغی مرکز ہے وہ پہلے عیسائیوں کا گرجا گھر تھا ۔
کینیڈا میں پادریوں کا ایک بہت بڑا مدرسہ تھا لیکن آج وہاں پر قرآن و حدیث کا درس دیا جاتا ہے ۔

فلپائن سے ایک جماعت کو کیوبا بھیجا گیا جس کی برکت سے وہاں کے 3000 مرتدوں نے کلمہ پڑھا اور 30 باقی لوگ بھی اسلام کی دولت سے مالا مال ہوئے ۔
جب یہ جماعت واپس آنے لگی تو کیوبا والے زارو قطار رونے لگے اور درخواست کی کہ ھمارے بھائیوں سے کہنا ھمیں بھول نہ جائیں ھمارے یہاں راہنمائی کیلئے اسلام کے فروغ کیلئے اور ھماری نسلوں کے ایمان کے تحفظ کیلئے آتے رہنا ۔

فلپائن میں عورتوں کی ایک جماعت گئی تو انکا بیان سن کر60 فلپائینی عوروتیں نے وہیں بیٹھ کر اپنے لئے برقعے منگوائے اور واپسی پر برقعوں میں ملبوس ہوکر واپس گھر ہوئی ۔
انہوں نے اپنے بچوں کو دین کی تعلیم کیلئے رائیونڈ بھیجا جب پتہ چلا کہ دینی تعلیم کیلئے پوری دنیا سے لوگ رائیونڈ کی طرف آرہے ہیں اور تعداد میں کثرت کی وجہ سے کچھ بچوں کو واپس کیا جارہا ہے تو فلپائنی عورتوں کی طرف سے ایک خط موصول ہوا کہ خدارا ھم نے اپنے زیور بیچ کر بچوں کو دین کہ تعلیم کیلئے روانہ کیا ہے خدا کیلئے انکو واپس نہ کرنا ورنہ یہ کبھی بھی دین کو سمجھ نہ سکیں گے
.شکریہ

Tuesday, 19 June 2018

anay wala dur barha mushkil ha

خواتین و حضرات! آنے والا وقت بہت زیادہ خوفناک ہے۔ اس میں کئی خطرناک کھیل شروع کر دیئے جائیں گے۔ یہ کھیل عید کے بعد شروع ہونے والا ہے۔ عید کے بعد منظور پشتین جیسے کئی گھٹیا کردار سامنے آئیں گے. یہ چھوٹی چھوٹی تحریکوں کے نام پر سامنے آئیں گے۔ ان تحریکوں کو ’’اچکزئی نظریے‘‘ کے پاسبان سپورٹ کریں گے۔ اس سلسلے میں گلگت میں بھی کام شروع ہو چکا ہے۔ کوئٹہ کے اندر لوگوں کو بہلانے پھسلانے والے بھی سرگرم ہیں۔ لندن میں بیٹھا ہوا ایک کالا کردار کراچی اور حیدرآباد کے کئی کرداروں سے رابطے میں ہے۔ عید کے بعد جب شریف خاندان کے لوگوں کو سزا ہو گی تو ’’اچکزئی نظریہ‘‘ پنجاب میں نظر آئے گا۔ سڑکوں پر ہنگامے ہوں گے۔ اس دوران لوڈشیڈنگ بھی ہو گی، لوگوں کو کئی اور مسائل کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ایک سیاسی جماعت پیسے کے زور پر پاک فوج کے خلاف سوشل میڈیا مہم چلائے گی۔ ان کے سارے سوشل میڈیا کنونشن سرگرم ہو جائیں گے۔ اس دوران بیرونی میڈیا سے بھی مدد لی جا سکتی ہے۔ چند بیرونی طاقتیں پاکستان کے خلاف گھیرا تنگ کرنے کے چکر میں ہیں۔ اسی لئے تو پاکستان کو پانی سے محروم کیا جا رہا ہے۔ افراتفری، ہنگاموں اور احتجاجوں کا عروج جولائی میں ہونے والے الیکشن کو کھا جائے گا۔ جن لوگوں کو ابھی بھی یقین نہیں آ رہا وہ کچھ دن انتظار کر لیں کیونکہ شہبازشریف اور نوازشریف ایک نظریے پر متفق ہو چکے ہیں۔ شریف فیملی کے جس آخری فرد کا جہاں کہیں بھی خاص رابطہ تھا، اب وہ بھی ٹوٹ چکا ہے۔ بس ٹوٹ پھوٹ کا یہ عمل منظرنامے کی اگلی بدصورتی بیان کر رہا ہے اور اگلی بدصورتی یہی ہو گی کہ 25 جولائی کو الیکشن نہیں ہوں گے۔ الیکشن جب بھی ہوئے اس سے پہلے صفائی ستھرائی ضرور ہو گی۔ حالات کا تقاضا ہے کہ پاکستان سے پیار کرنے والے ایک ہو جائیں کیونکہ پاکستان کے دشمن ہمارے وطن کے خلاف ایک ہو چکے ہیں اور انہیں ملک کے اندر سے ’’اچکزئی نظریے‘‘ کے حامل کئی افراد میسر ہیں۔ وہ تب تک حاوی نہیں ہوسکتے جب تک آپ کی فوج  ہے،
فوج کو وہ شکست نہیں دے سکے، اب یہ کام وہ آپ سے لینا چاہتے ہیں۔

بس یہی ففتھ جنریشن وار ہے۔

اگر آپ یہ خود کشی نہیں کرنا چاہتے تو اپنی فوج کو نشانہ بنانا بند کیجئیے۔

اور اگر انکا مقابلہ کرنے کا دل ہے تو اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ کو مورچہ سمجھ لیجئیے۔۔۔۔۔۔۔

بنیادی طور پر آپ کے تین نمایاں دشمن ہیں۔

لبرلز:  ایمان کے دشمن
خارجی: جان کے دشمن
جمہوریے: مال کے دشمن

تینوں کے پاس خوبصورت نعرے

لبرلز انسانیت کا نعرہ،
خارجی اسلام کا نعرہ،
اور جمہوریے حقوق کا نعرہ،

لیکن حقیقت میں ایک کافر کرتا ہے، دوسرا مارتا ہے اور تیسرا لوٹتا ہے۔

تینوں کا آپس میں ایک غیراعلانیہ اتحاد ہے۔ 

آپ غور کیجئیے  ۔۔۔۔۔۔۔

اور ان تینوں کا مشترکہ دشمن کون؟

۔۔۔۔۔۔۔۔۔  پاک فوج ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ !!!!

خارجی پاک فوج کو اسلام دشمن کہہ کر،
لبرلز پاک فوج کو دہشت گرد کہہ کر،
اور سیاست دان پاک فوج کو جمہوریت دشمن کہہ کر اس پر حملہ آور ہیں،

ان کو امریکہ، برطانیہ اور انڈیا کی بھرپور مدد و حمایت حاصل ہے۔

ان سے لڑنا کیسے ہے؟

1 ۔۔۔ سوشل میڈیا پر پاک فوج کے خلاف پوسٹ کیا گیا مواد ہرگز شئیر مت کیجئیے۔

2 ۔۔۔۔ ایسے مواد پر لائک یا کمنٹ مت کیجئیے۔ مخالفت میں بھی کمنٹ کرینگے تو وہ پوسٹ کی ریچ بڑھا دیگا۔

3۔۔۔۔۔۔ ہوسکے تو فیس بک کو رپورٹ کیجئیے۔

4 ۔۔۔۔۔۔۔۔ جس اکاؤنٹس سے ایسا مواد شئیر کیا گیا ہے اسکو انفرینڈ یا انبلاک کیجئیے۔

5 ۔۔۔۔۔ ایسے اکاؤنٹس اکثر فیک ہوتے ہیں اس لئے فیس بک کو رپورٹ کیجئیے۔

6 ۔۔۔۔ پاک فوج کو سپورٹ کرنے والا مواد گروپس میں اور وٹس ایپ وغیرہ پر زیادہ سے زیادہ شیر کیجئیے۔

7 ۔۔ پاک فوج کی سپورٹ میں بنائے گئے پیجز اور اکاؤنٹس کو لائیک یا فالو کیجئیے۔

8 ۔۔۔۔ خود بھی لکھنے کی کوشش کیجئیے۔

9 ۔۔۔۔۔ یہ فوج آپ کے لئے جانیں دے رہی ہے اس پر بھروسہ رکھئیے۔ غیر واضح معاملات میں دشمن آپ کو فوج سے بدگمان کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان کی باتوں میں مت آئیے۔

 " فوج اچھی ہے اور جرنیل برے ہیں" کہہ کر آپ کو دھوکہ دیتے ہیں۔

ان کے سامنے پاک فوج کی قربانی کی خبر پیش کریں تو بظاہر غم زدہ ہونے کا ڈراما کرتے ہوئے آپ کو بتائنگے کہ " یہ فلاں جرنیل کی غلطی ہے" اور یوں پاک فوج پر ہی تنقید کرینگے۔

اگر دشمن حملہ کرے تو بجائے اس کو ملامت کرنے کے یہ آپ کو پاک فوج کو ہی ملامت کرتے نظر آئے گے  کہ " کہاں گئی آپ کی جانباز فوج" ۔۔۔۔

ان کی ٹائم لائن پر سوائے پاک فوج پر تنقید کے آپ کو کچھ نہیں ملے گا لیکن واویلا مچائے گے کہ " وہ کون سی مقدس گائے ہے جس پر تنقید کی اجازت نہیں " ۔۔۔۔۔  :) ۔۔ آپ کو علم ہونا چاہئیے کہ پاکستان میں فوج پر جتنی بے دھڑک تنقید ہوتی ہے دنیا کے کسی اور ملک میں نہیں ہوتی۔

ان کی ان چالوں کو سمجھئیے۔ 

گستاخانہ پیجز چلانے والے، آپ کو بموں سے اڑانے والے اور آپ کو لوٹنے والے ہرگز ہرگز ہرگز آپ کے خیر خواہ نہیں ہیں۔

پاک فوج نہ رہی تو افغانستان اور انڈیا آپ کو کھا جائے گے۔ ان کو تو چھوڑیں آپ ان خوارج سے ہی نہیں نمٹ سکیں گے جن کو صرف آپ کے لئے تیار کیا گیا ہے۔

اسلام کے خلاف جنگ میں پاکستان اہم ترین قلعہ ہے اور پاکستان تب تک فتح نہیں ہو سکتا جب تک پاک فوج موجود ہے۔ اپنی ہی فوج کو شکست دینے میں دشمن کا ہاتھ مت بٹائیے....۔

Sunday, 10 June 2018

Seeta white

#سیتاوائٹ_کون_تھی_؟؟

جہاں تک ذاتی کردار کا تعلق ہے اس کے حوالے سے بہتان لگانے کی سزا اسی کوڑے ہے۔ اب میں سیتا وآئٹ کی حقیقت بتاتا ہوں جسے سن کر  قطری شہزدوں کے ناجائز پیدوار اور  ڈیزل کے ناجائز اولاد اور ہیرامنڈی کے دلال یقین نہیں کریں گے کیونکہ انہیں اللہ نے ہدایت نہیں دی۔ لگتا ہے کہ ان ہیرامنڈی کے پیدواروں کی ماں بچپن میں لوری دے کر سلاتی تهی کہ ۔ ۔ ۔ ۔
سیتا وائٹ !!!!
سیتا وائٹ!!!!!
پهر یہ جوان ہوئے تو پهر اپنے ماں سے پوچھا کرتے تھے کہ یہ سیتا وائٹ کون تهی ؟؟؟؟
تو ان کی ماں نے بتایا کہ یہ  تمهاری خالہ زاد بہن لگتی ہے۔
دراصل اس ساری کہانی کی حقیقت یہ ہے کہ جب 1998 لاس اینجلس میں شوکت خانم ھسپتال کا  فنڈ ریزنگ ڈنر تھا سیتا ؤایٹ نامی بیوہ جو ارب پتی خاتون تھی اس نے ایک ملین ڈالر کا فنڈ دیا اس موقع پر اس نے نہایت جزباتی تقریر کی اور عمران سے درخواست کی کہ اس کی کمسن بیٹی ٹیریان کو گود لے لے۔ چونکہ وہ خود کینسر کی مریضہ ہے اور ڈاکٹر جواب دے چکے ہیں اس لئے وہ چاھتی ہے اس کی بیٹی محفوظ ہاتھوں میں ہو جہاں اس کی دولت اسانی سے اسے منتقل ہو سکے۔ عمران نے انسانی ہمدردی کے تحت ٹیریان کو گود لے لیا اور لاس اینجلس کی عدالت نے اسے قانونی گارڈین تسلیم کر لیا۔ چند سال بعد سیٹا وائٹ کی موت کے بعد ٹیریان کو عمران نے جمائمہ کے پاس لندن بھیج دیا جہاں وہ تعلیم مکمل کر رہی ہے اور اس کے بعد لاس اینجلس میں اپنی جایداد اور کاروبار سنبھال لے گی۔ گزشتہ 13 سال سے عمران نے ٹیریان سے ملاقات تک نہیں کی ہے اور جمائمہ نے طلاق  کے باوجود ایک در یتم بچی کو پالا ہے اور بغیر کسی لالچ کے اسے اپنی کفالت میں رکھا۔
واقع مجھے یہ آج محسوس ہورہا ہے کہ سیتاوائٹ اں حرامیوں کی ماں تھی اور یہ نواز شریف اور ڈیزل کے ناجائز اولاد
پٹواری سو مرتبہ مرکر بھی ایسی مثال قائم نہیں کر سکتے۔ ریحام بد قسمت ہے کہ ایک نیک انسان نے اسے ننگے پن سے اٹھا کر عزت کا مقام دلانے کی کوشش کی مگر وہ کسی اور مشن پر تھی عزت اسے راس نہ ائی اللہ نے اس کا منہ کالا کر دیا۔ اب پٹواری غلاظت کے اس ڈھیر کو استعمال کرنے والے ہیں اللہ ان کا بھی منہ کالا کرے گا۔
اک جمائمہ تھی جس نے طلاق کے بعد بھی عمران خان کی قدر کی اور وفا نبھائی اور اک ریحام ہے جس کو کپتان نے شادی سے پہلے بھی عزت دی اور بعد میں بھی دے رہے لیکن وہ ناسور بن گئی۔
 تقریبا 'عمران خان اور جمائمہ خان کی علیحدگی کا 14 سال ہوا ھے ۔لیکن جمائمہ خان نے عمران خان کی خلاف ایک ایسا لفظ استمال نہیں کیا جس سے 'عمران خان کی دل دھوک پونچا ۔۔۔۔
امریکن سیتا وائٹ کی بیٹی کو اپنی سگی بھانجی سمجھ کر قطری شہزادوں اور ڈیزل کے ناجائز اولاد عمران خان پر الزام لگاتے رہے اور انصاف مانگتے رہے..
لیکن یہ خود اپنے ملک کی اپنی ہی پارٹی کی کارکن سمیہ چوہدری کے قتل ہونے پر حرام ہے کہ کسی نون لیگی کی غیرت جاگی ہو. ڈیزل جو مردان کےایک مدرسے سے 18 سالہ ایک دوشیزه طلبہ کو زبردستی اٹھاکر اغواء کیا اور جن سے بغیر نکاح ابھی چار بچے پیدا کر چکا ہے کیا یہ جائز تھے ان کیلئے کب انصاف دلانے کیلیے آواز اٹھائی ہو... 
کب توڑو گے غلامی کی یہ زنجیریں کب ظلم کیخلاف آواز اٹھاؤ گے....... !
ہیرامنڈی کے پیدوار آپ لوگ جو بھی کہتے ہیں کہنے دو  ۔
سلام عمران خان صاحب کہ  آپ خود ایک عزت دار انسان ہو
لیکن میرا اللّٰہ سب دیکھ رہا اور وہ سب سے بڑی چال۔چلنے والا انشاءاللّٰہ عمران خان کے دشمن کبھی بھی کامیاب نہیں ہوں گے انشاءاللّٰہ🙏

#نوٹ
پاکستان تحریک انصاف کے جیتنے کارکن ہے وہ ایک کمینٹ اور لایک ضرور دیں کیونکہ آپ کا ایک کمینٹ آپ کے جیتنے دوست ہے وہ تحریک انصاف اور عمران خان کا پیغام اس کے ساتھ شیئر کرتے ہیں آپ کا لایک اور کمینٹ بهت قیمتی ہے
#شکریہ

Friday, 8 June 2018

Khandani

خاندان اور خون کی پہچان۔۔۔۔ ضرور پڑھیں

سلطان محمود غزنوی نے اک بار دربار لگایا . دربار  میں ہزاروں افراد شریک تھے جن میں اولیاء قطب اور ابدال بھی تھے سلطان محمود نے سب کو مخاطب کر کے کہا کوئی شخص مجھے حضرت خضر علیہ السلام کی زیارت کرا سکتا ہے..
سب خاموش رہے دربار میں بیٹھا اک غریب دیہاتی کھڑا ہوا اور کہا میں زیارت کرا سکتا ہوں .سلطان نے شرط پوچھی تو عرض کرنے لگا 6 ماہ دریا کے کنارے چلہ کاٹنا ہو گا لیکن میں اک غریب آدمی ہوں میرے گھر کا خرچا آپ کو اٹھانا ہو گا ........

سلطان نے شرط منظور کر لی  اس شخص کو چلہ کے لیے بھج دیا گیا اور گھر کا خرچہ بادشاہ کے ذمے ہو گیا.....
6 ماہ گزرنے کے بعد سلطان نے اس شخص کو دربار میں حاضر کیا اور پوچھا تو دیہاتی کہنے لگا حضور کچھ وظائف الٹے ہو گئے ہیں لہٰذا 6 ماہ مزید  لگیں گے  ....
مزید 6 ماہ گزرنے کے بعد سلطان محمود نے پھر دربار لگایا اور دربار میں ہزاروں افراد شریک تھے.........  اس شخص کو دربار میں حاضر کیا گیا اور بادشاہ نے پوچھا میرے کام کا کیا ہوا....
یہ بات سن کے دیہاتی کہنے لگا بادشاہ سلامت کہاں میں گنہگار اور کہاں خضر علیہ السلام میں نے آپ سے جھوٹ بولا .... میرے گھر کا خرچا پورا نہیں ہو رہا تھا بچے بھوک سے مر رہے تھے اس لیے ایسا کرنے پر مجبور ہوا.....

سلطان محمود غزنوی نے اپنے اک وزیر کو کھڑا کیا اور پوچھا اس شخص کی سزا کیا ہے . وزیر نے کہا سر اس شخص نے بادشاہ کے ساتھ جھوٹ بولا ھے۔ لہٰذا اس کا گلا کاٹ دیا جائے . دربار میں اک نورانی چہرے والے  بزرگ تشریف فرما تھے کہنے لگے بادشاہ سلامت اس وزیر نے بالکل ٹھیک کہا .....

بادشاہ نے دوسرے وزیر سے پوچھا آپ بتاو اس نے کہا سر اس شخص نے بادشاہ کے ساتھ فراڈ کیا ہے اس کا گلا  نہ کاٹا جائے بلکہ اسے کتوں کے آگے ڈالا جائے تاکہ یہ ذلیل ہو کہ مرے اسے مرنے میں کچھ وقت تو لگے دربار میں بیٹھے اسی نورانی چہرے والے بزرگ نے کہا بادشاہ سلامت یہ وزیر بالکل ٹھیک کہہ رہا ہے ..........

سلطان محمود غزنوی نے اپنے پیارے غلام ایاز محمود سے پوچھا آپ کیا کہتے ہو ایاز نے کہا بادشاہ سلامت آپ کی بادشاہی سے اک سال اک غریب کے بچے پلتے رہے آپ کے خزانے میں کوئی کمی نہیں آیی .اور نہ ہی اس کے جھوٹ سے آپ کی شان میں کوئی فرق پڑا اگر میری بات مانو تو اسے معاف کر دو ........اگر اسے قتل کر دیا تو اس کے بچے بھوک سے مر جائیں گے .....ایاز کی یہ بات سن کر محفل میں بیٹھا وہی نورانی چہرے والا بابا کہنے لگا .... ایاز بالکل ٹھیک کہہ رہا ہے ......

سلطان محمود غزنوی نے اس بابا کو بلایا اور پوچھا آپ نے ہر وزیر کے فیصلے کو درست کہا اس کی وجہ مجھے سمجھائی جائے...
 بابا کہنے لگا بادشاہ سلامت پہلے نمبر پر جس وزیر نے کہا اس کا گلا کاٹا جائے وہ قوم کا قصائی ہے اور قصائی کا کام ہے گلے کاٹنا اس نے اپنا خاندانی رنگ دکھایا غلطی اس کی نہیں آپ کی ہے کہ آپ نے اک قصائی کو وزیر بنا لیا..........

دوسرا جس نے کہا اسے کتوں کے آگے ڈالا جائے اُس وزیر کا والد بادشاہوں کے کتے نہلایا کرتا تھا کتوں سے شکار کھیلتا تھا اس کا کام ہی کتوں کا شکار ہے تو اس نے اپنے خاندان کا تعارف کرایا آپ کی غلطی یے کہ ایسے شخص کو وزارت دی جہاں ایسے لوگ وزیرہوں وہاں لوگوں نے بھوک سے ھی مرنا ہے ..

اور تیسرا ایاز نے جو فیصلہ کیا تو سلطان محمود سنو  ایاز سیّد زادہ ہے سیّد کی شان یہ ہے کہ سیّد اپنا سارا خاندان  کربلا میں ذبح کرا دیتا یے مگر بدلا لینے کا کبھی نہیں سوچتا .....سلطان محمود اپنی کرسی سے کھڑا ہو جاتا ہے اور ایاز کو مخاطب کر کہ کہتا ہے ایاز تم نے آج تک مجھے کیوں نہیں بتایا کہ تم سیّد ہو......

ایاز کہتا ہے آج تک کسی کو اس بات کا علم نہ تھا کہ ایاز سیّد ہے لیکن آج بابا جی نے میرا راز  کھولا آج میں بھی راز کھول دیتا ہوں سنو اے بادشاہ سلامت اور درباریو یہ بابا کوئی عام ہستی نہیں یہی حضرت خضر علیہ السلام ہے

Thursday, 7 June 2018

2 bachy #Ngo

ایک این جی او نے ایک سماجی تجربہ کیا ، دو نوعمر بچوں کو لیا. ایک کو پرانے کپڑے پہنا کر بھیک مانگنے بھیجا اور دوسرے کو مختلف چیزیں دے کر فروخت کرنے بھیجا. شام کو بھکاری بچہ آٹھ سو اور مزدور بچہ ڈیڑھ سو روپے کما کر لایا. دراصل ہم بحیثیت قوم انجانے میں بھیک کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں اور محنت مزدوری کی حوصلہ شکنی کرتے ہیں. ہوٹل کے ویٹر، سبزی فروش اور چھوٹی سطح کے محنت کشوں کے ساتھ ایک ایک پائی کا حساب کرتے ہیں اور مشٹنڈے بھکاریوں کو دس بیس بلکہ سو پچاس روپے دے کر سمجھتے ہیں کہ جنت واجب ہوگئ.

مانگنے والوں کو صرف کھانا کھلائیں اور مزدوری کرنے والوں کو ان کے حق سے زیادہ دیں. ہمارے مولوی صاحب فرماتے ہیں کہ بھکاری کو اگر آپ ایک لاکھ روپے نقد دے دیں تو وہ اس کو محفوظ مقام پر پہنچا کر اگلے دن پھر سے بھیک مانگنا شروع کر دیتا ہے. اس کے برعکس اگر آپ کسی مزدور یا سفید پوش آدمی کی مدد کریں تو اپنی جایز ضرورت پوری کرکے زیادہ بہتر انداز سے اپنی مزدوری کرے گا.

گھر میں ایک مرتبان رکھیں. بھیک کے لئے مختص سکے اس میں ڈالتے رہیں. مناسب رقم جمع ہو جائے تو اس کے نوٹ بنا کر ایسے آدمی کو دیں جو بھکاری نہیں. اس ملک میں لاکھوں طالب علم، مریض، مزدور اور خواتین ایک ایک ٹکے کے محتاج ہیں. صحیح مستحق کی مدد کریں تو ایک روپیہ بھی آپ کو پل صراط پار کرنے کے لئے کافی ہو سکتا ہے. یاد رکھئے، بھیک دینے سے گداگری ختم نہیں ہو سکتی، بلکہ بڑھتی ہے. خیرات دیں، منصوبہ بندی اور احتیاط کے ساتھ، اس طرح دنیا بھی بدل سکتی ہے اور آخرت بھی. باقی مرضی آپ کی..

Divorce

حلالہ یا حرامہ ۔۔۔۔۔ ؟

حلالہ ایسی بےغیرت چیز ہے جس کا کوئی شریف اور خوددار شخص تصور بھی نہیں کر سکتا،اسی لئے نکاح شرعی کا اعلان و اشتہار ہوتا ہے جس پر خوشی اور مبارکبادی کا اظہارہوتا ہے،تقریبات اور ولیمہ کا اہتمام ہوتا ہے لیکن حلالہ کے نکاح کو لوگ کانوں کان چھپاتے ہیں نیز عورت کے نکاح کا داعیہ اس کے دین،حسب و نسب اور مال و جمال سے ہوتا ہے،لیکن کیا حلالہ کرنے والا بھی ان میں سے کسی داعیہ کا طالب ہے؟ ذرا حلالہ کا نکاح کرنے والے سے پوچھئے کہ کیا اس کے دل میں اپنی زوجہ کے نان و نفقہ اور اس کے لباس کا بھی احساس ہے یا نہیں؟ اور کیا حلالہ کے لئے نکاح کرائی جانے والی عورت عام شرعی نکاح کرنے والی عورتوں کی طرح خود کو سنوارتی اور مزین کرتی ہے؟ کیا لوگوں کو اس بات کا احساس نہیں ہے کہ حلالہ کے ذریعہ داغدار کی جانے والی کتنی ہی شریف زادیاں عزت و شرافت سے محروم ہو کر فسق و فجور کی بری راہوں کا شکار ہو گئیں اور حلالہ کے عادی ملعون مرد نے کتنے گھرانے تباہ کئے اور کتنی حقیقی بہنوں کو ایک ساتھ اپنی زوجیت میں کھا۔ الغرض ایک مجلس کی تین طلاق کو کتاب اللہ،سنت رسولﷺ اور تعامل صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کے خلاف تین مان لینے کی بنا پر آج جہاں سینکڑوں خاندان تباہ وبرباد ہیں وہیں مخالفین اسلام کو بھی اس مسئلہ کی آڑ لے کر مسلم پرسنل لا پر حملہ کرنے کا موقع ملتا ہے۔ ضرورت ہے کہ علماء امت اس مسئلہ کی تمام جزئیات پر بنظرتعمق غوروفکر کر کے امت کے لئے وہی فطری اور ربانی سہولتیں پیدا کریں جو عہد نبویﷺ میں امت کو حاصل تھیں!۔

Tuesday, 22 May 2018

China & Chinese Qoum

افیم کھانے والی چینی قوم نے ستر کی دہائی کے اواخر میں بیدار ہونا شروع کیا اور حکومت کی طرف سے اکنامک اور سوشل ری سٹرکچرنگ ریفارمز کے نفاذ پر عملدرامد شروع ہوگیا۔ اس پروگرام کے بنیادی خدوخال کچھ یوں تھے:

۱۔ زرعی شعبے میں نئی پالیسی کا قیام عمل میں لایا گیا جس کے تحت پہلی دفعہ کسانوں کو ان کی زمینوں کے مالکانہ حقوق دیئے گئے اور ساتھ یہ شرط بھی رکھی گئی کہ وہ اپنی پروڈکشن کا ایک حصہ حکومت کو دیں گے تاکہ کیمونزم اور سوشلزم ایجنڈے پر عمل بھی ہوتا رہے۔ اس سے زرعی پیداوار میں ہر سال پچیس فیصد کا اضافہ ریکارڈ ہوتا گیا جس سے معیشت کو بہت ترقی ملی۔

۲۔ انڈسٹری لیول پر ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ انڈسٹری کو اجازت ملی کہ وہ اپنے مختص کردہ کوٹے سے زیادہ پیداوار پروڈیوس کرکے فری مارکیٹ میں بیچ سکتے ہیں۔ اس سے ایک تو پروڈکشن استعداد بڑھنا شروع ہوئی، انڈسٹری میں نئی نوکریاں ملنا شروع ہوئیں، اشیا کی قیمتیوں میں مقابلے کی فضا کی وجہ سے کمی ہونا شروع ہوگئ اور پھر ایکسپورٹ کا بہت بڑا پوٹینشل سامنے آیا جس کی مدد سے چین نے پوری دنیا کی مارکیٹ کو اپنی مٹھی میں لے لیا۔

۳۔ تیسری ریفارم کا تعلق عوام کی تعلیم سے تھا۔ روایتی تعلیم کی بجائے ٹیکنیکل ایجوکیشن پر فوکس کیا گیا، صنعتی، زراعت، سروسز سے متعلقہ امور پر ڈپلومہ کورسز کروا کر نوجوانوں کو ۱۸ سال سے کم عمر میں ہی نوکری کے قابل بنا دیا جاتا جس سے ایک تو انڈسٹری کی لیبر ضروریات پورا ہونی شروع ہوئیں، دوسرے ان نوجوانوں کی معاشی صورتحال بھی بہتر ہوتی گئی۔ ان نوجوانوں نے پیسے کما کر خرچ کرنا شروع کئے تو معیشت کا پہیہ پوری رفتار سے گھومنا شروع ہوگا۔

۴۔ چوتھے نمبر پر پرائیویٹ سیکٹر کا فروغ تھا جس میں خاص طور پر سروسز سیکٹر پر فوکس کیا گیا۔ پرائیویٹ بزنس شروع کرنا آسان بنایا گیا، ٹیکنیکل شعبوں میں مہارت حاصل کرنے والے نوجوانوں نے اپنے کاروبار شروع کرکے سروسز فراہم کرنے کا کام شروع کردیا جس سے لاکھوں، کروڑوں کی تعداد میں نئے کاروبار شروع ہوئے جن میں ہر سال اوسطاً ایک یا ایک سے زائد نئی نوکریاں بھی پیدا ہوتی گئیں۔

ان ریفارمز کا نتیجہ ایک تو چین کی معاشی قوت کی صورت آپ کے سامنے ہے، دوسرا اہم فائدہ جو ہوا وہ یہ تھا:

1978 سے لے کر 1984 کے درمیان چھ سال کے عرصے میں چین نے دس کروڑ سے زائد نوکریاں پیدا کیں۔
1984 سے لے کر 1990  تک کے چھ سالہ عرصے میں چین میں 15 کروڑ سے زائد نوکریاں پیدا کی گئیں۔
مجموعی طور پر 1978 سے لے کر 1998 کے درمیان پینتیس کروڑ سے زائد نوکریاں پیدا کی گئیں۔

تحریک انصاف نے اپنے ایجنڈے میں بتایا ہے کہ وہ اگلے پانچ سال کے عرصے میں ایک کروڑ نوکریاں پیدا کریں گے تو جاہل پٹواری کیلکولیٹر لے کر سوشل میڈیا پر آگئے اور حساب لگانے لگے کہ پانچ سال میں اتنے دن ہوتے ہیں اور ایک کروڑ نوکریوں کا مطلب فی دن پانچ ہزار نوکریاں ہے جو کہ ناممکن ہے۔

ان جاہلوں کو علم نہیں کہ اگر اکنامک ری سٹرکچرنگ درست خطوط پر کی جائے اور حکمرانوں کی نیت ٹھیک ہو تو ایک افیم کھانے والی قوم بھی بیس سال میں ۳۵ کروڑ نوکریاں پیدا کرلیتی ہے۔ تحریک انصاف نے تو صرف پانچ سال میں ایک کروڑ نوکریوں کی بات کی ہے، اور وہ بھی پاکستان جیسے ملک میں جسے اللہ نے ہر قسم کی نعمت سے نواز رکھا ہے۔

یہ وہ کھوتا خور پٹواری ہیں جنہوں نے اس بات پر کبھی کیلکولیٹر نکال کر حساب نہیں لگایا کہ نوازشریف کی ۱۹۹۹ تک سالانہ آمدن 2 لاکھ سے بھی کم ہوا کرتی تھی لیکن آج اس کے پاس لندن، جدہ اور پانامہ میں اربوں ڈالرز کی جائیداد کیسے بن گئی؟

ان کھوتا خوروں نے اس وقت بھی کیلکولیٹرز نہیں نکالے جب شہبازشریف نے پچھلے الیکشن میں چھ ماہ میں آٹھ ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کا حیرت انگیز دعوی کردیا تھا۔

پٹواری تو جاہل ہیں لیکن عمران خان کے مخالفین جانتے ہیں کہ وہ جو کہتا ہے، کر گزرتا ہے۔ اگر اس نے پانچ سال میں ایک کروڑ نوکریوں کا کہا ہے تو وہ اللہ تعالی کی مدد اور مہربانی سے یہ وعدہ پورا کرکے دکھائے گا!!!!!!!!!!!!!!!

Monday, 21 May 2018

Save water

پانی کو عزت دو!

بھارت نے پاکستان کے حصے کے پانی پر کشن گنگا ڈیم بنا لیا ہے اور چند ہی دنوں میں مودی اس کا باقاعدہ افتتاح کرنے والے ہیں ۔ پانی کی قلت کے بد ترین بحران سے دوچار پاکستان ایک نئے عذاب سے دوچار ہونے جا رہا ہے مگر زندہ اور پائندہ قوم میں کسی کو پرواہ ہی نہیں ہے ۔ سیاسی قیادت روز ایک نیا تماشا لگا دیتی ہے اور میڈیا اس پر ڈگڈگی بجاتے ہوئے دن گزار دیتا ہے۔ غیر سنجیدگی اور خوفناک سطحیت کے اس ماحول میں کسی کو احساس ہی نہیں پاکستان کے ساتھ کیا ہونے جا رہا ہے ۔

کشن گنگا ڈیم کی تکمیل ایک انتہائی خوفناک منظر نامہ ہے ۔ بھارت میں جس دریا کو کشن گنگا کہتے ہیں پاکستان میں وہ دریائے نیلم کے نام سے جانا جاتا ہے ۔ یہ دریا وادی نیلم سے ہوتا ہوا مظفر آباد کے قریب دومیل کے مقام پر دریائے جہلم میں شامل ہو جاتا ہے۔ اب بھارت نے 22 کلومیٹر سرنگ بنا کر اس کا رخ موڑ دیا ہے ۔ اب یہ وادی نیلم میں نہیں بہے گا ۔ کشن گنا پراجیکٹ کے لیے اسے وولر جھیل کے ذریعے بارہ مولا کے مقام پر مقبوضہ کشمیر ہی میں دریائے جہلم میں ڈال دیا گیاہے ۔ یعنی اس کے قدرتی بہاؤ میں فرق ڈال دیا گیا ہے ۔ اب صرف کتابوں میں ملے گا کہ وادی نیلم میں ایک دریا بھی بہتا تھا جسے دریائے نیلم کہتے تھے۔

ذرا غور کیجیے وادی نیلم سے دریائے نیلم ہی روٹھ جائے، اس کا رخ بدل دیا جائے تو یہ وادی کیا منظر پیش کرے گی؟ اس کا تو سارا حسن اجڑ جائے گا ۔ ہنستی بستی وادی اجاڑ اور بیابان ہو جائے گی ۔ یہ تو برباد ہو جائے گی ۔ وادی نیلم میں ساڑھے چار لاکھ سے زیادہ لوگ خط غربت سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں ۔ دریائے نیلم کے ساتھ ساتھ ان کی زندگی چلتی ہے ۔ اسی کے ساتھ ساتھ وہ چاول وغیرہ اگاتے ہیں ، ان کی چکیاں اسی کے پانی سے چلتی ہیں ۔ یہ دریا ان کے لے زندگی کا پیغام ہے ۔ یاد رہے کہ وادی نیلم میں مون سون کی بارشیں نہیں ہوتیں ۔ اسے ’’ نان مون سون‘‘ کہا جاتا ہے ۔اس وادی کا 41 ہزار ایکڑ رقبہ دریائے نیلم سے سیراب ہوتا ہے ۔

جہاں سے دریا کا رخ بدلا گیا ہے وہاں سے دو میل تک 230 کلومیٹر کا علاقہ ہے۔ اڑھائی سو گاؤں پر مشتمل یہ سارا علاقہ ذرا تصور کیجیے کہ چند دنوں بعد ایک بہتے دریا سے اچانک محروم ہو جائے گا ۔ بارہ سو ٹن ٹراؤٹ مچھلی سالانہ اس علاقے سے پکڑ کر مقامی لوگ لوکل مارکیٹ میں فروخت کرتے ہیں ۔ یہ بھی ختم ہو جائے گی ۔ جنگلات کا مستقبل بھی ایک سوالیہ نشان ہو گا ۔ یہی نہیں پاکستان کے نیلم جہلم پراجیکٹ کا مستقبل بھی مخدوش ہوتا دکھائی دے رہا ہے ۔ ہمارا 27 فیصد پانی کم ہو جائے گا اور اس کے نتیجے میں نیلم جہلم ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کی پیداواری صلاحیت میں 20 فیصد کمی آ جائے گی ۔ اور اگر بھارت نے کسی وقت مزید شر پسندی کرنا چاہی تو معاملات مزید سنگین ہو جائیں گے۔ مکمل تباہی دستک دے رہی ہے اور کسی کو پرواہ نہیں ۔

اس سارے معاملے میں ہماری حکومت نے جس بے بصیرتی ، جہالت اور مجرمانہ غفلت کا مظاہرہ کیا وہ اس سے بھی زیادہ خوفناک ہے ۔ بھارت نے اس پراجیکٹ پر کام شروع کیا تو پاکستان نے انٹر نیشنل کورٹ آف آربٹریشن سے رجوع کر لیا ۔ عدالت نے پاکستان سے کہا کہ وہ پانی کے حوالے سے سارا ڈیٹا شواہد کے ساتھ عدالت کو فراہم کرے ۔ پاکستان کی تیاریوں کا عالم یہ تھا کہ جب عدالت نے یہ ڈیٹا مانگا تو حکومت کے پاس عدالت کو دینے کے لیے کچھ تھا ہی نہیں ۔ خفت مٹانے کے لیے عدالت سے کہا گیا دس دنوں کی مہلت دے دیجیے ہم سب کچھ پیش کر دیں گے ۔

پاکستان جس وقت پانی کے اہم ترین مسئلے پر اپنی بقاء کی جنگ لڑ رہا تھا ، نواز شریف اقتدار سنبھال چکے تھے اور ان کی بے نیازی کا یہ عالم تھا کہ پاکستان کا کوئی کل وقتی وزیر خارجہ تک نہیں تھا ۔ یہ اضافی ذمہ داری انہوں نے اپنے پاس رکھی ۔کیوں رکھی ؟ یہ ایک الگ داستان ہے جس پر پھر کسی روز بات کریں گے ۔

25 جون 2013 کو نواز شریف وزیر اعظم بنے اور اس سے 6 ماہ بعد بیس دسمبر 2013 کو عدالت نے بھارت کے حق میں فیصلہ سنا دیا ۔ اس فیصلے کے صفحہ 34 پر عدالت نے لکھ دیا کہ
’’ حکومت پاکستان نے پانی کے موجودہ اور متوقع زرعی استعمال کے حوالے سے کوئی اعداد و شمار پیش نہیں کیے‘‘۔
کوئی مہذب معاشرہ ہوتا تو اس غفلت پر حکومت کا حشر نشر ہو جاتا لیکن نیم خواندہ معاشرے میں نواز حکومت نے کمال ڈھٹائی سے دعوی فرما دیا کہ یہ فیصلہ تو ہماری کامیابی ہے۔

اب آگے سنیے ۔ بھارت کو عدالت نے ڈیم بنانے کا حق دے دیا تو اس نے کھل کر کھیلنا شروع کر دیا اور سندھ طاس معاہدے کی دھجیااں اڑا دیں ۔ نواز شریف اس سارے دور میں مودی کی نازبرداریاں فرماتے رہے اور سجن جندال کی میزبانی فرماتے رہے ۔اب جب مودی اس ڈیم کا افتتاح کرنے والا ہے تو ہمیں ہوش آیا ہے اور ہم درخواست ہاتھ میں لیے ورلڈ بنک کی منتیں کر رہے ہیں کہ سندھ طاس معاہدے کے تحت چونکہ آپ ثالث ہیں اس لیے ہماری بات تو سنیے ۔

ہم نے یہاں بھی وقت ضائع کر دیا ۔ ہماری کامیاب سفارت کاری کا عالم یہ ہے کہ ہم امید لگائے بیٹھے تھے اپریل میں ہمیں ملاقات کا وقت مل جائے گا لیکن ہمیں کہا گیا ورلڈ بنک کے صدر مصروف ہیں ابھی ان کے پاس وقت نہیں ۔ اب ڈیم کے افتتاح سے پہلے ورلڈ بنک کے صدر سے ملاقات کا کوئی امکان نہیں ۔ اور افتتاح کے بعد اس کا کوئی فائدہ نہیں ۔

نواز شریف اور شاہد خاقان نے غریب قوم کے خرچے پر بیرونی دوروں کے ریکارڈ قائم کر دیے لیکن حالت یہ ہے کہ ورلڈ بنک کے سربراہ کے پاس پاکستانی وفد سے ملنے کا وقت ہی نہیں ۔ اور بے حسی دیکھیے کہ حکومت کو کوئی پرواہ نہیں کیا ہو رہا ہے ۔ پانی ہمارے لیے موت و حیات کا مسئلہ ہے ۔ لیکن ہمیں کوئی حیا نہیں آ رہی کہ اسے سنجیدگی سے لیں ۔ کوئی اور ملک ہوتا اور اس کے ساتھ ایسی واردات ہو رہی ہوتی تو وہ اب تک سفارتی محاذ پر ایسا طوفان کھڑا کر چکا ہوتا کہ ورلڈ بنک تو رہا ایک طرف خود اقوام عالم کو معاملے کا نوٹس لینا پڑتا لیکن ہمارے ہاں کشن گنگا کی واردات پر حکومت بول رہی ہے نہ اپوزیشن ۔ نیم خواندہ اور اوسط سے کم درجے کی قیادت کو شاید اس معاملے کی سنگینی کا احساس تک نہیں۔

کشن گنگا پراجیکٹ سے ہمارے ایکو سسٹم کو بھی خطرہ ہے ۔ بھارت یو این کنونشن آن بائیولوجیکل ڈائیورسٹی ، کنونشن آن کلائیمیٹ چینج اور کنونشن آن واٹر لینڈز پر دستخط کر چکا ہے ۔ ہماری پوری ایک وادی مکمل طور پر تباہ ہونے جا رہی ہے اور ہم نے ان کنونشنز کو کسی فورم پر ابھی تک موضوع نہیں بنایا ۔ کشن گنگا ڈیم سے پاکستان کو سالانہ 140 ملین ڈالر کا نقصان متوقع ہے لیکن یہ مسئلہ ہمارے قومی بیانیے میں کہیں جگہ نہیں بنا سکا ۔ یہاں یاروں کے مسائل ہی اور ہیں ۔ گندی سیاست کی شعبدہ بازی سے کوئی بلند ہو سکے تو ان مسائل پر غور کرے ۔

نیم خواندہ رہنما ، تماش بین عوام اور ڈگڈگی بجاتی سکرینیں ۔ آتش فشاں پہ بیٹھ کر بغلیں بجائی جا رہی ہیں ۔ آج کسی کو احساس تک نہیں لیکن یاد رکھیے، وہ وقت اب زیادہ دور نہیں جب آپ ہم سب کو معلوم ہو جائے گا کہ ہم پانی کے کس خوفناک بحران سے دوچار ہو چکے ہیں ۔

اس سماج کی غیر سنجیدگی اور کھلنڈرے پن سے اب خوف آ نے لگا ہے ۔ پانی کا خوفناک بحران ہماری دہلیز پر دستک دے رہا ہے۔ سن سکتے ہو تو سن لو ۔
#SaveWater

Sunday, 20 May 2018

Alai Battagram Hazara







قدرتی حسن کا شاہکار ہزارہ کی جنت نظیر وادی آلائی

صوبہ خیبر پختونخوا میں ہزارہ ڈویژن ضلع بٹگرام کی تحصیل آلائی کا شمار ملک کے پرفضا اور صحت افزا مقامات میں ہوتا ہے، جہاں ہر طرف قدرت کے حسین رنگ نظر آتے ہیں،سبزہ زاروں، جھیلوں اور چراگاہوں کی یہ سرزمین آپ کو اپنے سحر میں جکڑ لیتی ہے۔انسان کو قدرت کی بنائی ہوئی ہر خوبصورت چیز سے بھی پیار ہوجاتا ہے وادی آلائی کے لازوال اور دلکش ترین مسحور کن حسن کا انسان ایسا اسیر ہو کر رہ جاتا ہے کہ جیسے قدرت کے ہاتھوں نے بہت بڑا پیالے میں خوبصورتی بھر کر اسے زمین پر رکھ دیا ہو' خصوصاً برف کی سفید چادریں اوڑھیں پہاڑ وادی کی خوبصورتی کو چار چاند لگا دیتے ہیں ۔ تحصیل آلائی کے سیاحتی مقام "وادی شمشیر" میں واقع آبشار کا خوبصورت اور دلکش منظر بے مثال ہے پہاڑی بلندی سے گرتی ہوئی آب شار ، جلترنگ بجاتی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔ تحصیل آلائی کے سیاحتی مقام بیاری کے قریب ندی راشنگ کا خوبصورت اور دل موہ لینے والا منظر بھی کسی تعریف کا محتاج نہیں۔ وادیِ الائی کی مشہور چراہ گاہ چھور قدرت کا بہترین شاہکار ہے جو تقریباً 900 مربع میل پر محیط ہے۔ چھور کی چراہ گاہ مشرق میں دریائے کنہار اور مغرب میں دریائے سندھ کے درمیان واقع ہے جبکہ شمال میں ضلع کوہستان ہے۔ یہ چراہ گاہ موسمِ گرما میں آباد ہوتی ہے اور یہاں چرواہے کشمیر، افغانستان، شمالی علاقہ جات اور شمالی پنجاب سے جا بستے ہیں اور یوں سینکڑوں عارضی آبادیاں قائم ہو جاتی ہیں۔ اکتوبر کے مہینے میں یہ لوگ نیچے کی طرف ہجرت کرتے ہیں کیونکہ اس کے بعد شدید سردی کے باعث یہاں رہنا نا ممکن ہو جاتا ہے۔ وادی چوڑ ضلع بٹگرام کے تحصیل آلائی میں واقع ایک خوبصورت ترین علاقہ ہے۔ یہ تقریباََ چھ ہزار فُٹ کی بلندی پر واقع ایک برفیلا علاقہ ہے۔ یہ علاقہ روڈ جیسی بنیادی سہولت سے محروم ہونے کی وجہ سے دنیا کی نظروں سے اوجھل ہے۔ وادی آلائی اک خوبصورت وادی جو چاروں طرف سر سبز پہاڑوں میں گهرا هوا علاقہ هے وادی آلائی کو ملک کی بڑی چراگاهوں میں شمار کیا جاتا هے خوبصورت مناظر سر سبز پہاڑ ٹهنڈے پانی کے چشمے اور رنگ برنگے پرندے بهی اس وادی میں بکثرت پاۓ جاتے هے۔
آلائی خیبر پختون خواہ کا ایک مشہور ضلع بٹگرام کی تحصیل  ہے۔ یہ ایک پہاڑی لیکن بہت ہی خوبصورت مقام ہے پورے پاکستان میں اس جیسا پُرامن مقام کوئی نہیں ہے۔ یہاں کے لوگ پٹھان ہیں اور زیادہ تر آبادی سواتی یوسفزئی قوم پر مشتمل ہے۔ اس ضلع کے لوگ بہت بہادر اور مہمان نواز ہیں۔ خیبرپختونخواہ کے ضلع بٹگرام کی دشوار گزار تحصیل الائی کو باقی دنیا سے دو راستے ملاتے ہیں۔ دونوں راستے شاہراہ ریشم پر تھاکوٹ اور بشام پر اترتے ہیں۔ اس پوری تحصیل کی آٹھ یونین کونسلوں میں دور دراز پہاڑوں میں پھیلی آبادی تقریباً 3 لاکھ نفوس پر مشتمل ہے ۔ الائی
تحصیل کا ہیڈ کواٹر بنہ ہے یہاں پر زبانیں: پشتو, گوجری, کوہستانی بولی جاتی ہیں۔
1971 میں آلائی کو ہزارہ میں شامل کیا گیا۔ اکتوبر 1976 میں جب مانسہرہ کو ضلع کا درجہ ملا تو  آلائی کو تحصیل کا درجہ دیا گیا۔ اس کے بعد 1993 کو بٹگرام کو ضلع کا درجہ دیا گیا جنہیں دو تحصیلوں بٹگرام اور آلائی میں تقسیم کیا گیا اور اس کا صدر مقام بٹگرام رکھا گیا۔ تحصیل آلائی کا رقبہ 804 مربع کلومیٹر ہیں۔ ضلع بٹگرام کی سب سے بلند ترین چوٹی کا نام دروازئی سر( سوکئ سر یا خاپیرو سر) ہے جو تحصیل آلائی میں واقع ہے۔ اس چوٹی کی سطح سمندر سے بلندی تقریبا 4680 میٹر ہے۔  آلائی بنہ اور وادی راشنگ پرمشتمل ہیں۔ بڑی ندی آلائی خوڑ جو تحصیل آلائی کے بلند وبالا اور بل کھاتی ہوئی پہاڑوں جن میں سب سے بڑی پہاڑی چوٹی دروازئی سر(سوکئ سر یا خاپیرو سر) اور وادی چوڑ کے خوبصورت اور دلکش پہاڑوں پرسالوں سال پڑی برف اور ٹھنڈے، میھٹے اور صحت افزا پانیوں سے شروع ہوکر بیاری، نوگرام، بٹیلہ، بنہ اور تیلوس سے ہوتے ہوئے کنڈ کے مقام پر اباسین (دریائے سندہ) میں جا ملتی ہے  تحصیل آلائی میں گھنگوال، راشنگ، گھنتھڑ، بٹیلہ، پاشتو اور بٹنگی میں بہت زیادہ سردی پڑتی ہے۔ اور بعض علاقوں میں عام کے اندازے کے مطابق 12 سے 15 فٹ تک برف پڑتی ہے۔ گرمیوں میں  تحصیل آلائی میں بنہ، کرک، سکرگاہ، کنئ، بتکول اور جمبیڑہ میں سخت گرمی ہوتی ہے۔  جنگلات میں بیاڑ، چیڑہ، دیار اور کچھل کے درخت کثیر تعداد میں پائے جاتے ہیں۔ گھنے جنگلات میں چیتا، بھورا بندر، سفید بندر، بھورا ریچھ، سفید ریچھ، کالا ریچھ، گیدڑ، لومڑی، مور، تیتر اور برفانی بدمانت (برمانڑو) وغیرہ کثیر تعداد میں پائے جاتے ہیں۔
 سب سے زیادہ کاشت کی جانے والی پیداوار میں گندم اور مکئی پہلے جبکہ دوسرے نمبر پر چاول کی کاشت سب سے زیادہ ہوتی ہیں۔ اس کے علاوہ سرسوں، جو، مونگ پھلی اور سبزیاں کثیر تعداد میں اگائی جاتی ہیں۔سب سے زیادہ بولی جانے والی زبان پشتو ہے جو تقریبا 90 فیصد تک تمام علاقوں میں بولی اور سمجھی جاتی ہیں۔  اس کے علاوہ  دوسری بولی جانے والی زبانوں میں گوجری، ہندکو اور کوہستانی جو زیادہ تر پہاڑی علاقوں میں بولی جاتی ہیں۔ہزارہ سوہنا دیس سوہنے لوگ ہیں جس میں آلائی جیسے خوبصورت سیاحتی مقامات پائے جاتے ہیں مگر افسوس کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی نااہلی، غفلت اور عدم دلچسپی اور عوامی نمائندوں کی بےحسی سے آلائی جیسا خوبصورت سیاحتی مقام دنیا کی نظروں سے اوجھل ہے اگر سڑک کی تعمیر سمیت آلائی کے دیگر مسائل پر توجہ دی جائے تو ضلع بٹگرام کی تحصیل آلائی میں سیاحت کو فروغ مل سکتا ہے اور حکومت کو ایک بڑی آمدن حاصل ہو سکتی ہے۔

Saturday, 19 May 2018

Rishta

ایک نظر یہاں پر بھی۔۔
لڑکوں کے نام!!!👇👇👇۔۔
ہمارے معاشرے میں اپنے بیٹے یا بھائ کے لئے جب شادی کے لئے رشتہ ڈھونڈا جاتا ھے تو
لڑکی کی خوبصورتی
لڑکی کی شرافت
لڑکی کے کام کاج
لڑکی کا رہن سہن
لڑکی کی تعلیم
لڑکی کا خاندان
لڑکی کا جہیز
لڑکی کا جائیداد میں حصہ
لڑکی کی پیدائش سے اسکی جوانی تک کی ھسٹری جن کی گواہی شرط
اور لڑکا کے لئے صرف اسکی نوکری ہونا ہی بہت ھے  نہ شکل و صورت اہم نہ کردار اہم ، نہ چال چلن اہم ، نہ اسکے دوست احباب اہم
نہ اسکا گھر والوں سے رابطہ تعلق اہم
نہ اسکے عشق معاشقے اہم ، بس
ایک نوکری اسکے 100 عیبوں پر پردہ ڈال دیتی ھے
اور المیہ یہ ھے کہ
کسی کی بیٹی بہن کے گھر جب دیکھنے جاتے ہیں تو پہلے کہلوا بھیجتے ہیں کہ  لڑکی دیکھنے آ رھے ہیں وہاں لڑکی کے دل پہ کیا گزرتی ھے
جو دل و دماغ میں مرتی تڑپتی دعائیں مانگتی سوچتی پاگل ہوتی ھے کہ
کیا ہوگا ،؟
میں پسند آوں گی یا نہیں ؟
پسند نہ آئی تو لوگ کیا کہیں گے ؟
پسند آ بھی تو وہ لوگ کیسے ہوں گے ؟
وہ لڑکا کیسا ھوگا جیسے ھزاروں سوالات
اور
اوپر سے جہالت یہ کہ لوگ کسی کی بہن بیٹی کو بلاتے ہیں
انکو چلنے کا کہا جاتا ھے جیسے منڈی میں بھیڑ بکریوں کو کچھ قدم چلا کر پسند کیا جاتا ھے
اسکے کمرے کو جاکر دیکھتے ہیں انکے گھر کھا پی کر اور واپس ایک میسج بھیج دیتے ہیں
معاف کرنا ہمیں لڑکی پسند نہیں !!
اف
ایسے لوگوں کو تیل کی گرم کڑھائ میں ڈال دینا چاھئے
ظالمو
ایک نہیں 10 بار رشتہ نہ کرو پر
وہاں لڑکی دیکھنے کسی بہانے سے بھی جایا جا سکتا ھے
جب تک پسند نہ آئے رشتے کی بات نہ کیا کرو
وہ لڑکی ھے فرشتہ نہیں ؟ پری نہیں ؟
ایک سادہ سی معصوم سی انسان ھے
جس کے کچھ جزبات ھیں ۔ کچھ خواب ھیں
اسکی بھی کوئی عزت نفس ھے ۔
خدارا اپنے چاند سے بیٹوں کے لئے پریاں ضرور ڈھونڈیں
پر
کسی کی بہن بیٹی کو عیب لگا کر نہین
کسی کی آہ لے کر نہیں
کسی کی بددعا لے کر نہیں ۔
اچھی اور غریب لڑکیوں کو اپناو
تاکہ
آپکے سبب کسی معصوم کی زندگی ہی سنور جائے ۔
اللہ پاک
سب بہن بیٹیوں کے نصیب انکی سوچ سے زیادہ خوبصورت لکھ دے
Ameen.....

Wednesday, 16 May 2018

Sardar & Son of Sardar Mehtab abbasi

سردار مہتاب  کے چچا محترم سردار سرفراز خان کے مشورے پہ سیاسی میدان میں قدم رکھا. چونکہ علاقہ پسماندہ ہونے کی وجہ سے اکثریت لوگ ان پڑھ ہونے کی وجہ سے جب تاریخ میں پہلی دفعہ ایک پڑھا لکھا اور نوجوان سیاست دان نے جب سیاست میں قدم رکھا تو علاقے کے پسے ہوئے طبقے کی جان میں جان آئی گویا انہیں جس مسیحا کی تلاش تھی وہ مل گیا 1985 میں جب سردار صاحب نے پہلی دفعہ آزاد حیثیت سے الیکشن لڑا تو علاقے کے بوڑھے, بچے, نوجوان سب الیکشن مہم کے لئے میدان میں کود پڑے اور نہایت جوش و خروش سے الیکشن مہم کو کامیاب بناتے ہوئے سردار صاحب کو زبردست کامیابی دلوائی اور وہ سرکل بکوٹ میں ایک پاپولر سیاسی لیڈر کے طور پہ ابھرے. ہم نے اپنے بزرگوں سے سنا کہ علاقے کے اندر خوشی کی لہر دوڑ گئی اور لوگ مبارک باد کے لئے جوق در جوق پہنچے. علاقے کے لوگوں کی خوشیوں کی جہاں بہت سی وجوہات تھیں وہاں یہ بھی تھی کہ ہمارا علاقہ اب پسماندگی سے نکلے گا اور عوام کو ہر قسم کی ضروری سہولیات سے آراستہ کیا جائے گا. اور آخر کار وہ دن بھی آیا جب 21 فروری 1997 کو فتح کا سورج طلوع ہوا اور سردار صاحب خیبر پختونخواہ کے بائیسویں وزیر اعلی منتخب ہوئے. اور یوں لگا جیسے اب ہمیں پوری دنیا کی حکمرانی مل گئی ہو اور بزرگ فرماتے ہیں کہ ہر جگہ یہی موضوع زیر بحث تھا اور عوام کی خوشی کی کوئی انتہا نہ تھی گویا کہ اب ہماری پسماندگی کے تابوت کو آخری کیل ٹھونسے کے لئے ہمارا مسیحا آگیا ہو. 21 فروری 1997 سے لیکر 22 اکتوبر 1999تک 2 سال 8 ماہ وزیر اعلی کے منصب پہ فائز ہونے کے باوجود سردار صاحب عوام کی امنگوں پی پورے نہ اترے اور علاقے کی پسماندگی ختم کرنے میں کوئی بھی کردار ادا نہ کرسکے لیکن اپنی فیملی کی آسودہ حالت کو بہتر کرنے میں اہم کردار ادا کیا.1999 میں مشرف کے ٹیک اور کے بعد جناب نے  آٹے کی سمگلنگ اور جعلی پرمٹ اور  خورد برد کرنے کے جرم میں جیل کی ہوا کھائی.
2003 سے لیکر 2008 تک سینیٹر کی حیثیت سے اپنے فرائض سرانجام دیے اور خوب مال سمیٹا مگر علاقے کی پسماندگی جوں کی توں رہی اور عوام کی امنگوں پہ پانی پھیرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی.
2008 میں علاقے کی عوام نے پھر سے چانس دینے کا فیصلہ کیا کہ ہم اپنی پگ کسی اور کے سر نہیں دے سکتے اور اپنا مار کے دھوپ میں نہیں پھینکتا کی منطق پہ عمل کرتے ہوئے سردار صاحب کو دونوں سیٹس NA17 اور PF 45 میں بھاری اکثریت سے کامیابی دلوائی جوکہ بعد ازاں پورے سرکل بکوٹ میں کسی ایک شخص کو بھی اہل نہ سمجھتے ہوئے صوبائی سیٹ اپنے بیٹے کو تحفہ کے طور پہ عنائت فرمائی اور یوں موروثیت کے ناسور نے جنم لیا. NA 17 کی نشست پہ کامیابی کے بعد جناب والا 31 مارچ 2008 کو فیڈرل منسٹر ریلوے منتخب ہوئے اور ایک بار پھر عوام میں ایک امید جاگی کے ہمارے بے روزگار لوگوں کو اب روزگار ملے گا اور گھروں میں خوشیاں آئیں گی مگر ہوا وہی جس کا ڈر تھا اور ان تلوں کو نچوڑنے کے بعد تیل کی ایک بوند بھی نہ نکلی.
سردار صاحب کے آگے پیچھے گھومنے والے چند ٹھیکدار جو عوامی مفاد کو  چند ٹکوں کے عوض بیچتے رہے اور رات کی تاریکیوں میں مفادات کا سودہ کرنے میں پیش پیش رہے. تعلیم سے کوسوں دور ہماری بھولی بھالی عوام کو کہیں خاندانی سیاست کے نام پہ کہیں برادری ازم کے نام پہ کہیں تھانے ک چہری کے ڈراوے دے کے اور کہیں لالچ دے دے کے بھلا پھسلا کے  ووٹ حاصل کیے گئے.   بھولی بھالی عوام کو الّو بنانے کا گُر ان ٹھیکیداروں میں کوٹ کوٹ کے بھرا تھا.
سردار صاحب اپنی اور اپنی فیملی کو ترقی کی منزلات تک پہنچا گئے مگر عوام کو پستی کی گہری کھائیوں میں دھکیل گئے. 3 جون 2013 سے لیکر 9 اپریل 2014 تک اپوزیشن لیڈر رہنے کا سہرا بھی اپنے سر سجانے والا یہی خطہ کہسار کا ایسا فرزند تھا جس نے اپنی مٹی سے بے وفائی کی.  15 اپریل 2014 سے لیکر 8 فروری 2016 تک گورنر خیبر پختونخواہ کی کرسی پہ بھی براجمان رہے. اور اب 14 فروری 2017 سے مشیر ہوابازی کے عہدے کے مزے لوٹ رہے ہیں.

میرے علاقے کے غیور نوجوانو!
میرے بھائیو. میرے بزرگو!
اتنا لمبا عرصہ اور مسلسل بڑے عہدوں پہ فائز رہنے والا شخص جس کو عوام نے بڑی مشکل سے بڑی تگ و دو سے منتخب کیا . اپنا قائد مانا  اپنا لیڈر مانا اپنا مسیحا مانا اپنے دل پہ ہاتھ رکھ کہ تنہائی میں بیٹھ کے ایک بار صرف ایک بار ضرور سوچنا کہ کیا اس شخص نے اپنی مٹی سے وفا کی ہے . کیا عوام کی امیدوں پہ پورا اترے کیا سردار صاحب نے علاقے اور خصوصاّ اپنے آبائی گاوں سے سوتیلی ماں والا سلوک نہیں کیا.
میرے نوجوانو اب وقت آگیا ہے احتساب کا.یوسى پلک یوسی   بکوٹ یوسی پٹن کے غیور نوجوانو! یہی ہے وہ لابی جس نے ہمیں ان پڑھ رکھا جس نے ہمیں بے روزگار رکھا خصوصاً یوسى پلک کے ساتھ زیادتیوں کی انتہا کردی. اب اگر ہمیں ہوش نہ آیا تو کب آئے گا اب بھی اگر ہم نہ سمجھے تو ہماری داستاں تک نہ ہوگی داستانوں میں.
ہماری 7 نسلوں کا حساب لینے کا وقت آں پہنچا ہے. خدارا اپنی آنکھیں کھولو اور ارد گرد دیکھو کہ کون ہیں وہ لوگ. وہ کون مفاداتی ٹولہ ہے جس نے جان بوجھ کے ہمارے بچوں کے مستقبل سے کھیلواڑ کی.
اب کی بار دوبارہ غلطی نہ کرنا
اب کی بار سوچ سمجھ کر.
اب کی بار برادری ازم نہیں.
اب کی بار موروثیت نہیں.
اب کی بار پہلے وعدوں کی تکمیل چائیے.

اب جس کے جی میں آئے وہ لے اس سے روشنی.
ہم نے تو دل جلا کر سر عام رکھ دیا ہے..

Friday, 11 May 2018

Next Prime Minister imran Khan Pti

پنجاب سے قومی اسمبلی کی 148 سیٹیں ہیں جن میں سے 41 جنوبی پنجاب سے ہیں۔ حالیہ دنوں میں جنوبی پنجاب کے تمام بڑے بڑے برج تحریک انصاف میں شامل ہوچکے، آنے والے دنوں میں کھوسہ اور لغاری قبائل بھی عمران خان کی جماعت میں شامل ہونے کا اعلان کرنے جارہے ہیں۔ یہ سب الیکٹیبلز ہیں جو اس سے قبل جس جماعت میں بھی رہے، جیتتے رہے۔ اب ہوا کا رخ تحریک انصاف کی طرف ہے تو یہ عمران خان کی طرف آگئے۔

2018 کے الیکشن میں جنوبی پنجاب کی 41 میں سے کم و بیش 30 نشستیں انشا اللہ تحریک انصاف کو ملنے جارہی ہیں۔

اسلام آباد سمیت ساری پوٹھوہار بیلٹ پہلے ہی عمران خان کے پاس ہے اور یہاں سے بھی کم و بیش 18 قومی اسمبلی کی سیٹیں پکی ہیں۔

وسطی پنجاب میں ن لیگ اور تحریک انصاف کا میچ اگر برابر بھی رہا، جس کا کہ امکان ہر گزرتے دن کے ساتھ کم ہوتا جارہا ہے، پھر بھی عمران خان کم و بیش 25 کے قریب سیٹیں نکال لے گا۔

یوں پنجاب سے ایک محتاط اندازے کے مطابق کم سے کم نشستیں بھی انشا اللہ 85 کے قریب قریب تحریک انصاف کے پاس ہوں گی۔

خیبرپختون خواہ میں اس دفعہ کلین سویپ ہونے جارہا ہے اور 35 میں سے کم و بیش 25 سیٹیں انشا اللہ عمران خان کی ہوں گی۔

بلوچستان میں سنجرانی کی بدولت عمران خان نے اپنے پاؤں جما لئے ہیں، اور یہاں سے 14 میں سے 10 سیٹیں عمران خان یا اس کی سیٹ ایڈجسٹمنٹ کی بدولت میں ملیں گی۔

فاٹا کی 12 میں سے 8 نشستیں عمران خان کی ہیں۔

سندھ سے اگر 5 سیٹیں بھی نکال لے تو یہ تعداد بنتی ہے 133، جو کہ 272 کے ایوان کا تقریباً نصف ہے۔ آزاد اراکین اور کچھ سیٹ ایڈجسٹمنٹس کو ملا لیا جائے تو 155 کے قریب اراکین عمران خان کے ساتھ ہوں گے جو کہ انشا اللہ اسے وزیراعظم کیلئے اعتماد کا ووٹ دیں گے۔

خواتین کی نشستوں کا تناسب بھی اسی حساب سے ملے گا۔

اگر اللہ تعالی کی مدد شامل حال رہی تو 14 اگست 2018 کو قومی پرچم کشائی اور پریڈ کی تقریب میں آپ عمران خان کو بطور وزیراعظم ٹی وی پر دیکھیں گے۔

نصر من اللہ و فتح قریب۔۔۔۔۔۔۔..۔

Tuesday, 8 May 2018

Kailash culture









پاکستان کی حسین ترین وادی کیلا ش میں صدیوں سے آباد کیلاش قبیلے کا سالانہ تہوار ”چلم جوش“ شروع ہونے والا ہے۔یہ تہوار ہر سال موسم بہار کی آمد پر13مئی سے 16مئی تک منایا جاتا ہے۔ یہ پاکستان کے سب سے رنگارنگ اور مشہورتہوارکی حیثیت سے سب سے زیادہ شہرت کا حامل ہے یہی وجہ ہے کہ اس تہوار کو دیکھنے ہر سال ہزاروں سیاح وادی کیلاش کا رخ کرتے ہیں۔ یہی وہ تہوار ہے جو وادی کیلاش کی روز مرہ زندگی اور وہاں کے انوکھے رہن سہن کو دنیا بھر میں شہرت بخشنے کابڑا سبب ہے۔

پاکستان کے برفیلے علاقے چترال کے قریب واقع کیلاش کا علاقہ تین وادیوں ، ”رمبور“، ”بریر“ اور” بمبوریت“ پر مشتمل ہے ۔دراصل یہ پاکستان کا انتہائی شمال مغربی حصہ ہے۔ موسم بہار کے آتے ہی تینوں وادیوں میں چلم جوش کی تیاریاں شروع ہوجاتی ہیں لیکن تہوار کے خاص تین دن تمام مرد و خواتین وادی بمبوریت میں جمع ہوجاتے ہیں۔ مقامی لوگ اسے ”چلم جوشٹ“ بھی کہتے ہیں۔

یہاں کے سادہ لوح افرادآج بھی صدیوں پرانی روایات کے مطابق زندگی بسر کر رہے ہیں۔ انہوں نے پرانی روایات کو مذہب کی طرح اپنایا ہواہے۔اسی سبب سیاحوں کے لئے ان کی شادیاں، اموات، مہمان نوازی، میل جول، محبت مذہبی رسومات اور سالانہ تقاریب وغیرہ انتہائی دلچسی کا باعث ہیں۔ یہ وہ خصوصیات ہیں جو سیاحوں کو چترال اور خاص کر وادی کیلاش کی سیر کی دعوت دیتی ہیں۔

چلم جوش جشن بہار اں کی تقریب ہے ۔ مقامی افراد اس تہوار کیلئے کافی پہلے سے اوربہت سی تیاریاں کرکے رکھتے ہیں۔ مئی کا مہینہ شروع ہوتے ہوتے یہاں ہر طرف سبزہ اگ آتا ہے اور چار سو خوشبوں کا ڈیرہ پڑجاتا ہے۔ ندیوں اور دریاؤں میں پگھلتی ہوئی برف کا شفاف پانی موج زن ہوتا ہے جبکہ پہاڑوں پر سبز جنگلات کے بیچوں بیچ برفانی شیشوں سے روشنی منعکس ہوتی ہے ۔ یہ منظر علاقے کو نہایت دلکش اور قابل دید بنا دیتا ہے۔

چلم جوش کو وادی میں مذہبی تقریب کا درجہ حاصل ہے۔ اس دن خاص اہتمام کے ساتھ کھانے تیار کئے جاتے ہیں ۔ تہوار کے پہلے روزآپس میں بکری کا دودھ بانٹا جاتا ہے ہے۔ علاقے کے بزرگ لوگ ہی یہ دودھ اکٹھا کرسکتے ہیں ۔ پھر اس دودھ کو مقررہ مقام پر لایا جا تا ہے ۔ عام افراد دودھ کے حصول کیلئے قطاروں میں لگ کر اس کا انتظار کرتے ہیں۔ یہ دودھ ایک تبرک سمجھا جاتا ہے لہذا ہر ایک کی خواہش ہوتی ہے کہ کم از کم ایک گھونٹ دودھ اسے ضرور ملے۔

سب سے پہلے نو مولود بچوں کو دودھ پلایاجاتا ہے ۔پھر دوسرے بچوں کی باری آتی ہے۔ اس کے بعد نوجوانوں ، جوانوں اور بڑوں کو تھوڑا تھوڑا دودھ پینے کے لئے دیا جاتا ہے ۔تمام افراد کو دودھ پہنچا کر اس تقریب کا باقاعدہ افتتاح ہوتا ہے۔ اس کے بعد قبیلے کے بزرگ کھلے آسمان تلے روٹی پکاتے ہیں جست تمام افراد میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ اس روٹی میں ہر قسم کے آٹے کے علاوہ علاقے میں پائے جانے والے تمام میوہ جات بھی ڈالے جاتے ہیں جویہاں کی ایک سوغات بھی ہے۔

روٹی کھانے کے بعد تمام مرد و زن مذہبی مقام ”جسٹک خان“ کے سامنے سے گزر کر ایک مخصوص میدان میں آتے ہیں جہاں خواتین ڈھول کی تاپ پر ناچتی اور گاتی ہیں ۔ مرد حضرات اوروادی میں آنے والے سیاح ارد گرد بیٹھ کریہ منظر دیکھتے اور داد دیتے ہیں۔یہ عمل شام ڈھلے تک جاری رہتا ہے پھر جیسے ہی سورج نیچے اترنا شروع کرتا ہے یہ لوگ اپنے اپنے گھروں کو چلے جاتے ہیں۔

کیلاش کی ثقافت میں خواتین کو منفرد مقام حاصل ہے ۔ گھر کے تمام فیصلے خواتین کرتی ہیں۔ گھر بار، مویشیوں کی دیکھ بھال،کاشتکاری، ہر قسم کا حساب کتاب۔۔ سب خواتین کی ہی ذمہ داری ہوتی ہے۔یہاں کی خواتین وادی کی مخصوص ثقافت اور تہذیب کی پہچان ہیں۔ خواتین کا کالا لباس، سر پر مخصوص دم دار ٹوپی اور گلے میں موتیوں کے ہار انہیں پوری دنیا سے الگ پہچان دیتے ہیں ۔

چلم جوش کا آخری دن نہایت اہم ہوتا ہے۔ سہ پہر کو جب کیلاش قوم ایک میدان میں جمع ہوتی ہے تو تمام خواتین خواہ کسی بھی عمر کی ہوں پھر سے ناچنا اور گانا شروع کردیتی ہیں۔ مرداور تماش بین نظارہ کرتے ہوئے ارد گرد کھڑے ہوجاتے ہیں۔ اس وقت کچھ مذہبی پیشوا ایک مقام پر اکھٹے ہو کر ہاتھوں میں پودوں کی سبز شاخ اٹھائے ہوئے میدان کی طرف آتے ہیں۔ تمام خواتین ان کو سلامی پیش کرتی ہیں۔

اب وہ آخری مرحلہ آتا ہے جوبلکہ منفرد ہے۔ یہ موقع محبت کا سر عام اظہار ہے۔ ایک دوسرے سے محبت کرنے والا لڑکا اور لڑکی ایک دوسرے کے قریب آتے ہیں، ایک دوسرے کاہاتھ تھامتے ہیں اور شادی کا اعلان کرتے ہیں۔ چند ہی لمحوں میں میدان شادی کے خواہش مند نوجوان جوڑوں سے بھرجاتا ہے۔ لوگ خوشی کا اظہار کرتے ہیں، ہنستے ہیں، چیختے ہیں اور ایک دوسرے کو مبارک باد دیتے ہیں۔

تمام جوڑوں کے میدان سے نکلنے کے بعد شرکاء باری باری ان جوڑوں کے گھروں میں جا کر مبارک باد دیتے ہیں اور یوں وادی میں بہار کا افتتاح ہو تا ہے۔ کیلاشوں میں تقریباً ہر شادی محبت اور ہم خیالی کا آئینہ دار ہوتا ہے اور یہ یہاں کی ایک خوبصورت
...داستان بھی ہے۔

Tuesday, 1 May 2018

2minet Ke Gherat Sari umer ke Bgherty (Murderer Future)

والدین کے اکلوتے بیٹے اور دو بہنوں کے اکلوتے پڑھے لکھے بھائی جنید کا اپنے محلے کے ایک نوجوان سے جھگڑا ہو گیا. ہاتھا پائی ہوئی اور کچھ گالیوں کا تبادلہ بھی ہوا.جنید گھر آیا اور اپنے کمرے میں بیٹھ گیا. اس نے اپنے دشمن کو مارنے کا فیصلہ کر لیا اور الماری سے پستول نکال لیا. اچانک اسے اپنے ایک دوست کی نصیحت یاد آ گئی. دوست نے اسے ایسا کوئی بھی انتہائی قدم اٹھانے سے پہلے 30 منٹ کے لئے واردات کے بعد کی صورتحال تصوراتی طور پر دیکھنے کا کہا تھا.
جنید نے تصور میں اپنے دشمن کے سر میں تین گولیاں فائر کر کے اسے ابدی نیند سلا دیا. ایک گھنٹے بعد وہ گرفتار ہو گیا. گرفتاری کے وقت اس کے والدین اور دو بہنیں پھوٹ پھوٹ کر رو رہی تھیں. اس کی ماں بے ہوش ہو گئی. مقدمہ شروع ہوا تو گھر خالی ہونا شروع ہو گیا. ایک کے بعد ایک چیز بکتی گئی. بہنوں کے پاس تعلیم جاری رکھنا ناممکن ہو گیا اور ان کے ڈاکٹر بننے کے خواب مقدمے کی فائل میں خرچ ہو گئے.بہنوں کے رشتے آنا بند ہو گئے اور ان کے سروں میں چاندی اترنے لگی. جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہر ہفتے والدین اور بہنیں ملاقات کے لئے جاتے. بہنوں کا ایک ہی سوال ہوتا کہ بھیا اب ہمارا کیا ہو گا؟ ہم اپنے بھائی کے بستر پر کسے سلائیں گی؟ ہم بھائی کے ناز کیسے اٹھائیں گی؟ بھائی کے پاس کوئی جواب نہیں ہوتا. فیصلے کا دن آیا اور جنید کو سزائے موت ہو گئی. سزائے موت کی تاریخ مقرر ہو گئی. 25 منٹ گزر چکے تھے اور جنید کے جسم پر لرزہ طاری ہو چکا تھا. جیل میں وہ اپنی موت کے قدم گن رہا تھا اور گھر میں والدین اور بہنیں اپنے کرب اور اذیت کی جہنم میں جھلس رہے تھے. جنید کی آنکھوں پر کالی پٹیاں باندھ دی گئیں اور اسے پھانسی گھاٹ کی طرف لے جایا گیا. 29 منٹ ہو چکے تھے. پھانسی گھاٹ پر پیر رکھتے ہی 30 منٹ پورے ہو گئے. جنید پسینہ پسینہ ہو چکا تھا. اس کے جسم میں کپکپی طاری تھی. اس نے پستول واپس الماری میں رکھ دیا. اس نے میز سے اپنی بہنوں کی دو کتابیں اٹھائیں اور بہنوں کے پاس گیا. بہنوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ میری پیاری بہنو تمہارے پڑھنے کا وقت ہو گیا ہے. خوب دل لگا کر پڑھو کیونکہ تمہیں ڈاکٹر بننا ہے.
چند ماہ بعد جنید ایک بینک میں اچھی پوسٹ پر ملازم ہو گیا. جنید کی دونوں بہنیں ڈاکٹر بن گئیں. وہ ایک کامیاب اور بھرپور زندگی گزار رہے ہیں. ان 30 منٹ کی تصوراتی واردات اور 30 منٹ کے مقدمے کی کارروائی نے ایک پورے گھر کو اجڑنے سے بچا لیا. آپ اپنی زندگی میں یہ 30 منٹ اپنے لئے ضرور بچا کے رکھئیے گا، یہ 30 منٹ کی تصوراتی اذیت آپ کو زندگی بھر کی اذیت سے بچا لے گی!!?!?

Thursday, 19 April 2018

Horse Trading in Pakistan senate Election

عمران خان نے اپنی پارٹی کے 20 اراکین صوبائی اسمبلی کو ہارس ٹریڈنگ کی بنیاد پر نکال کر تاریخ میں ایک نیا باب رقم کر دیا۔

پاکستان کے سیاسی سرکس میں سیاسی گھوڑوں کی خریدو فروخت کا آغاز 1985 ء میں اس وقت ہوا جب نواز شریف نے فاروق لغاری کے مقابلے میں وزارت اعلیٰ پنجاب کا انتخاب جیتنے کا فیصلہ کیا۔

..شریف خاندان کے نہایت قریبی بیوروکریٹ اورسابق چیف سیکرٹری پنجاب مہر جیون خان نے اپنی کتاب’’جیون دھارا‘‘ میں لکھا ہے کہ فاروق لغاری کو شکست دینے کیلئے نواز شریف نے ایک، ایک رکن اسمبلی کو پولیس کے اے ایس آئی اور تحصیلدار و پٹواری کی کئی نوکریاں فراہم کیں جنہوں نے یہ ’’ملازمت کوٹہ‘‘ لاکھوں روپے میں عوام کو فروخت کیا۔

1990 ء میں ایک مرتبہ پھر میاں صاحب کی جانب سے ہارس ٹریڈنگ کیلئے چھانگا مانگا اور مری کے ریسٹ ہاؤسز کااستعمال ملک کی سیاسی تاریخ کا سیاہ باب بن چکا ہے لیکن گزشتہ روز عمران خان نے اپنی پارٹی کے 20 اراکین صوبائی اسمبلی کو ہارس ٹریڈنگ کی بنیاد پر نکال کر تاریخ میں ایک نیا باب رقم کیا ہے جس نے کپتان کا اخلاقی و انتخابی مورال مزید بلند کردیا ہے۔

گزشتہ35 برس میں پاکستانی سیاست میں ہارس ٹریڈنگ کو فروغ ملا ہے۔ اس کی ابتدا تو مسلم لیگ(ن) کی جانب سے ہوئی لیکن بعد ازاں پیپلز پارٹی نے مسلم لیگ(ن) کا مقابلہ کرنے کیلئے خود بھی ہارس ٹریڈنگ کا ہتھیار استعمال کرنا شروع کردیا۔ دونوں جماعتوں نے طویل عرصہ تک سیاسی اصطبل کے برائے فروخت گھوڑوں کا خوب کاروبار کیا ہے۔

لاہور سے تعلق رکھنے والی ایک نیم سیاسی کاروباری فیملی نے سینیٹر بننے کیلئے فاٹا کے اراکین قومی اسمبلی کی خریداری میں نئے’’نرخ‘‘ متعارف کروائے اور یہ طریقہ اتنا مقبول ہوا کہ ہر پارٹی نے زیادہ سے زیادہ سینٹ نشستیں جیتنے کیلئے فاٹا اور کے پی کے کو ہی مرکز نگاہ بنا لیا۔ فاٹا میں زیادہ دلچسپی اور ’’ریٹ‘‘ زیادہ ہونے کی وجہ یہ رہی ہے کہ وہاں ایک سینٹ نشست کیلئے کم ارکان کو ’’مینج‘‘ کرنا پڑتا ہے۔

عمران خان نے سینٹ الیکشن میں ہارس ٹریڈنگ اور خریدو فروخت کی روک تھام کیلئے کئی سال پہلے حکومت کو تجاویز دی تھیں لیکن اس وقت نواز شریف نے ان سنی کردی تھی۔

گزشتہ روز مسلم لیگ(ن) کے کئی میڈیا منیجرز ٹی وی چینلز پر فرما رہے تھے کہ میاں نواز شریف کو یہ کریڈٹ جاتا ہے کہ انہوں نے ہارس ٹریڈنگ روکنے کیلئے آئینی ترمیم متعارف کروائی، لیگی رہنماوں کی خوش فہمی اپنی جگہ لیکن تاریخ گواہ ہے کہ میاں نواز شریف اور میاں شہباز شریف نے ہارس ٹریڈنگ روکنے کیلئے جو قانون سازی کی تھی وہ بھی درحقیقت ایک طرح کی ہارس ٹریڈنگ ہی تھی اور اس کا دوسرا مقصد اپنے ’’مشکوک‘‘ ارکان کے ’’فرار‘‘ کو روکنا تھا ورنہ میاں شہباز شریف کی وزارت اعلی بچانے کیلئے ’’یونی فیکیشن بلاک‘‘ کی تشکیل کسے بھولی ہے۔

عمران خان کے بہت سے اقدامات اور خیالات سے اختلاف کیا جا سکتا ہے لیکن بہر حال یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ کپتان نے پاکستان کی سیاست میں ’’انہونی‘‘ کو’’ہونی‘‘ میں تبدیل کیا ہے۔ عام انتخابات سے چند ہفتے یا چند مہینے پہلے اپنے 20 ارکان کو پارٹی سے نکال دینا ،یہ کام عمران خان ہی کر سکتا تھا۔
میاں نواز شریف اور مریم نواز ’’ووٹ کو عزت دو‘‘ کی جو تحریک چلا رہے ہیں وہ ان کے سیاسی عزائم کی آئینہ دار ہے لیکن عمران خان نے جن 20 ارکان کو نکالا ہے انہوں نے 2013 ء کے الیکشن میں مجموعی طور پر 2 لاکھ80 ہزار ووٹ حاصل کئے تھے یعنی گزشتہ روز ان 2 لاکھ80 ہزار ووٹوں کی عزت بحال ہوئی ہے۔
عمران خان کے اس جارحانہ اقدام کے بعد پاکستان تحریک انصاف کے پارٹی ٹکٹ لینے کے امیدواروں کو بھی یہ واضح پیغام مل گیا ہے کہ کپتان نہ تو بلیک میل ہو سکتا ہے اور نہ ہی اس کی کتابوں میں غداروں کیلئے معافی یا نرمی کی گنجائش ہے۔

Hazrat Umar (R.A)

حضرت عمر فاروق رضی اللّٰہ کے دور میں ایک بدو آپ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے ملنے مدینے کو چلا، جب مدینے کے پاس پہنچا تو ادھی رات کا وقت ہو چ...